احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 155
تعلیمی پاکٹ بک 155 حصہ اوّل ترجمہ : خدا عالم الغیب ہے وہ کسی کو اپنے غیب پر ( دوسرے ملہموں کے مقابلہ میں ) غلبہ نہیں بخشتا بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو۔عقلاً بھی کثرت مکالمه مخاطبه مشتمل بر امور غیبیہ کے بغیر نبی کا نام نہیں مل سکتا بر جیسے ایک دو روپیہ رکھنے والے کو کوئی مالدار نہیں کہہ سکتا جب تک اس کے پاس اتنا مال نہ ہوکر وہ صاحب نصاب بن جائے۔نوٹ: اگر کوئی یہ کہے کہ لَا نَبِيَّ بَعْدِی کی رُو سے کوئی نبی آئندہ پیدا نہیں ہوسکتا۔لیکن پہلا نبی جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں امت محمدیہ میں آسکتا ہے تو واضح ہو کہ: الف۔یہ بھی لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے مفہوم عام کی تخصیص ہوگی اور تاویل ہوگی مفہوم عام کے لحاظ سے نہ کوئی پہلا نبی آنحضرت ﷺ کے بعد آ سکتا ہے اور نہ بعد میں کوئی نبی ظاہر ہوسکتا ہے۔۔اگر بفرض محال حضرت عیسی علیہ السلام کا اصالتاً دوبارہ آنا مان لیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ مستقل نبی کی حیثیت میں نہیں آئیں گے یا آکر انجیل کی طرف دعوت نہیں دیں گے بلکہ اُمتی نبی کی حیثیت میں آئیں گے اور قرآن کریم کی طرف دعوت دیں گے اور اُن کی نبوت میں یہ تغیر ایک نئی قسم کی نبوت کے حدوث ( پیدا ہونے) پر دال ہوگا کیونکہ ہر تغیر حدوث کو چاہتا ہے اور جب نئی قسم کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوسکتی ہے تو نئی قسم کا نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیوں نہیں ہوسکتا ؟ جماعت احمدیہ بموجب احادیث نبویہ وَاِمَامُكُمُ مِنْكُمُ ( صحیح بخاری) اور فَلَمَّكُمُ مِنْكُمْ ( صحیح مسلم) نازل ہونے والے ابن مریم کو امت محمدیہ میں سے ہی پیدا ہونے والا اُمت کا امام یقین کرتی ہے کیونکہ آیت استخلاف (سورۃ النور ) کی رو سے جیسا کہ پہلے بیان ہوا حضرت عیسی علیہ السلام کا کوئی مثیل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوسکتا ہے خود حضرت عیسی علیہ السلام امت محمدیہ میں