احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 154
154 تعلیمی پاکٹ بک عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْزِلُ فِيْنَا حَكَمًا مِنْ غَيْرِ تَشْرِيْعٍ وَهُوَنَبِيٌّ بِلا شَكٌ۔حصہ اول فتوحات مکیہ جلد اول صفحه 545 مطبوعہ دار صادر بیروت ) ترجمه: ہم نے جان لیا ہے کہ شریعت کالا نا امرِ عارض ہے۔یعنی نبوت کی جزء ذاتی نہیں اسی وجہ سے کہ عیسی علیہ السلام ہم میں حکم کی صورت میں بغیر نئی شریعت کے نازل ہوں گے اور وہ بلا شک نبی بھی ہوں گے۔پس نبوت کی جزء ذاتی الْمُبَشِّرَاتُ ہی قرار پاتی ہیں جو مخالفوں کے لئے منذرات کا مفہوم رکھتی ہیں اور رسولوں کی یہی شان بیان کی گئی ہے کہ رُسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِينَ که رسول تبشیر و انذار کر نیوالے تھے پس مسیح موعود بلاشک غیر تشریعی نبی بھی مانا جاتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بھی۔اور اہلِ عالم کے لئے حکم و عدل بھی۔واضح رہے کہ حضرت محی الدین ابن عربی حضرت عیسی علیہ السلام کے بُروزی نزول کے قائل ہیں نہ کہ اصالتا آمد کے جیسا کہ وفات مسیح کے مضمون میں حضرت شیخ اکبر کے حوالہ سے تفصیلاً بیان کیا جا چکا ہے کہ ان کا نزول آخری زمانہ میں کسی دوسرے بدن کے تعلق سے واجب ہے اور وہ نبوت کی تعریف میں لکھتے ہیں : وَلَيْسَتِ النُّبُوَّةُ بِأَمْرٍ زَائِدِ عَلَى الْأَخْبَارِ الْإِلَهِی۔(فتوحات مکیه جلد 2 صفحه 375 مطبوعه دار صادر بیروت) ترجمه : نبوت خدا سے غیب کی خبریں ملنے سے زیادہ کوئی امر نہیں۔البتہ قرآن شریف نے اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ نبی کے لئے اخبار غیبیہ کو بکثرت پانا شرط ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةَ إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ (الجن : 27 ، 28)