احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 132
تعلیمی پاکٹ بک 132 حصہ اول اس حدیث کی تشریح میں امام محمد طاہر علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے: هذَا نَاظِرٌ إِلى نُزُولِ عِيسَى وَهَذَا أَيْضًا لَا يُنَافِي حَدِيثَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي لِأَنَّهُ أَرَادَلَا نَبِيَّ يَنْسَخُ شَرُعَهُ۔تكمله مجمع البحار صفحه 85 مطبوعه مطبع نول کشور آگره) ترجمه : حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول عیسی کے نزول کے پیش نظر ہے اور یہ قول حدیث لا نبی بعدی کے بھی خلاف نہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد لا نَبِيَّ بَعْدِئی سے بھی کہ کوئی نبی آپ کی شریعت کو نسخ کرنے والا نہیں آئے گا۔نوٹ: حضرت اُم المومنین کا یہ قول اگر بالفرض نزول عیسی کو پیش نظر رکھنے کی وجہ سے بھی ہو تو یادر ہے کہ آپ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کی قائل تھیں جیسا کہ مستدرک میں ان سے روایت ہے:۔إِنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِينَ وَمِائَةَ سَنَةٌ۔(ديكهو حجج الكرامه صفحه 428) که عیسی بن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہے۔پس وہ عیسی کے بروزی نزول کی قائل ہی سمجھی جاسکتی ہیں نہ اصالتا نزول کی کیونکہ وہ قرآن مجید خوب جانتی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزمر:43) کہ جس نفس پر موت وارد ہو جائے اسے خدا دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجتا۔الشیخ الاکبر حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمۃ حدیث لا نَبِيَّ بَعْدِی کی تشریح میں تحریر فرماتے ہیں:۔فَمَا ارْتَفَعَتِ النُّبُوَّةُ بِالْكُلِيَّةِ وَلِهَذَا قُلْنَا إِنَّمَا ارْتَفَعَتْ نُبُوَّةُ