احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 7 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 7

دوم :۔یابند ہی امور میں دخل اندازی کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرے کہ کسی جماعت یا فرقے یا فرد کا کیا مذ ہب ہے؟ جماعت احمدیہ کا مؤقف یہ تھا کہ: ” ہم ان دونوں سوالات کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک رنگ ونسل اور جغرافیائی اور قومی تقسیمات سے قطع نظر ہر انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو اور دُنیا میں کوئی انسان یا انجمن یا اسمبلی اسے اس بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتے۔اقوام متحدہ کے دستور العمل میں جہاں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے وہاں ہر انسان کا یہ حق بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو“۔چنانچہ کم وبیش دس صفحات پر پھیلے ہوئے دلائل اور وجوہات بیان کرنے کے بعد محضر نامہ میں اسمبلی سے یہ اپیل کی گئی کہ:۔پاکستان کی قومی اسمبلی ایسے معاملات پر غور کرنے اور فیصلہ کرنے سے گریز کرے جن کے متعلق فیصلہ کرنا اور غور کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کے منشور اور پاکستان کے دستور اساسی کے خلاف ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآن کریم کی تعلیم اور ارشادات نبویگے بھی سراسر منافی ہے اور بہت سی خرابیوں اور فساد کو دعوت دینے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔“ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں جماعت احمدیہ کے امام اور ان کے ساتھ ایک وفد پیش ہوا جن پر گیارہ روز تک جرح کے رنگ میں مختلف سوالات کئے جاتے رہے۔وہ سوالات کیا تھے، ان کے جوابات کس انداز میں دیئے گئے ، ان جوابات کی علمی حیثیت اور مقام و مرتبہ اور اثر آفرینی ایک الگ مضمون ہے۔لیکن بالآخرے استمبر ۱۹۷۴ ء کو ایک قرار داد منظور کر لی گئی اور اس کی روشنی میں آئین میں ترمیم کر دی گئی جس کی رو سے یہ قرار دیا گیا کہ:۔حضرت محمد ، جو کہ آخری نبی ہیں ، کے آخری نبی ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔ترمیم سے واضح ہے کہ مجددین، امام مہدی اور عیسی کے ظہور سے متعلق امت مسلمہ کے ۱۴۰۰ سالہ مسلمہ عقیدہ سے انحراف کیا گیا ہے۔ترمیم میں قطعی اور غیر مشروط “ اور ” کسی بھی مفہوم کے الفاظ اس بات کی بھی غمازی کر رہے ہیں کہ احمدی آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین تو ضرور مانتے ہیں۔ترمیم پر احمدیوں کو تو دکھ ہونا ہی تھا وطن عزیز کے سنجیدہ طبقہ نے بھی اس ترمیم پر ڈکھ محسوس کیا۔البتہ تنگ نظر ملاؤں نے جشن منائے اور تحریک ختم نبوت نے اس ساری کارروائی کا سہرہ اپنے سر باندھا اور اس بات کو 1953 ء سے لیکر 1974 ء تک اپنی مساعی کا نتیجہ قرار دے کر فتح و کامرانی کے ڈنکے بجائے۔دوسری طرف ایک سیاسی طالع آزما نے، جسے مذہب سے کوئی سروکار نہیں تھا، اپنے خیال میں ۹۰ سالہ مسئلہ حل کر دیا اور بزعم خود ایک تیر سے کئی شکار کئے۔ترمیم تو منظور ہوگئی، مگر کیسے منظور ہوئی ، اس بارہ میں جناب الطاف حسن قریشی مدیر اُردو ڈائجسٹ نے ” عوامی حقوق کی جنگ کے زیر عنوان تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: - اس امر واقع سے انکار کی گنجائش نہیں کہ پہلی ترمیم اور دوسری ترمیم اتفاق رائے سے منظور ہوئی اور دوسری ترمیم میں بالخصوص تمام قوائد وضوابط ایک طرف رکھ دیئے گئے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ترمیم کا تعلق قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے تھا۔ہم نے اس خطرناک پہلو کی پہلے ہی نشان دہی کی تھی کہ وزیر اعظم ایک پتھر سے دوشکار کرنا چاہتے تھے۔ایک طرف دستور میں ترمیم کر کے عوامی جذبات پر فتح حاصل کر لی جائے اور دوسری طرف پارلیمنٹ کو دستوری ترمیم عجلت میں پاس کرنے کا خوگر بنا دیا جائے۔مسٹر بھٹو نے قادیانی مسئلے کے بارے میں آخری اقدام کے لئے ۷ ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی مگر ایسے حالات بھی پیدا کئے جن میں آخری وقت تک کوئی بات فیصلہ کن نظر نہ آتی تھی۔قومی اسمبلی میں کئی روز سے قادیانی مسئلے کے سلسلے میں خفیہ کارروائی ہو رہی تھی اور قادیانی جماعت کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا تھا۔یہ بحث ۶ ستمبر تک چلتی رہی اور کچھ طے نہ پایا کہ دستوری ترمیم کے الفاظ کیا ہوں گے۔ستمبر کو چار بجے شام تک ایک غیر سرکاری مسودے پر مختلف پارلیمانی قائدین کے مابین گفت و شنید ہوتی رہی۔ہونا یہ چاہئے تھا کہ خفیہ کارروائی کے نتیجہ میں ایک بل تیار ہوتا اور اس پر قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں میں غور ہوتا اور اس کے بعد اسے بحث و تمحیص کیلئے ایوان میں پیش کر دیا جاتا۔جناب بھٹو اس پورے طریق کار کو ختم کر دینے کے در پے تھے تا کہ آئندہ کے لئے ایک مثال قائم ہو جائے۔چنانچہ وہ آخری وقت تک طرح دیتے رہے اور پانچ بجے کے قریب بل پڑھ کر سنایا گیا اور ایک گھنٹے کے اندر اندر سے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسی رات سینٹ کا اجلاس طلب ہوا اور اس ایوان میں بھی کچھ زیادہ وقت نہ لگا۔اس رواروی اور گہما گہمی میں کچھ بھی غور و فکر