احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 6
یہ کہ ایوان ایک ایسی خصوصی کمیٹی تشکیل کرے جو کہ پورے ایوان پر مشتمل ہو، اس کمیٹی میں وہ اشخاص شامل ہوں جو ایوان کو خطاب کرنے کا حق رکھتے ہوں۔نیز ایوان کی کاروائی میں حصہ کا استحقاق رکھتے ہوں۔سپیکر صاحب اس خصوصی کمیٹی کے چیئر مین ہوں اور یہ کمیٹی مندرجہ ذیل امور سرانجام دے۔(1) دین اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا جو حضرت محمد ﷺ کے آخری ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو۔(2) کمیٹی کی جانب سے متعین کردہ میعاد کے اندر اراکین سے تجاویز،مشورے، ریز ولیشن وصول کرنا اور ان پر غور کرنا۔(3) مندرج بالا متنازعہ امور کے بارے میں شہادت لینے کے بعد اور ضروری دستاویزات پر غور کرنے کے بعد سفارشات پیش کرنا۔کمیٹی کیلئے ” کورم چالیس افراد پر مشتمل ہوگا، جن میں سے دس کا تعلق ان پارٹیوں سے ہوگا جو کہ قومی اسمبلی کے اندر حکومت کی مخالف ہیں یعنی حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہوں“۔30 جون 1974ء کوقومی اسمبلی میں اپوزیشن نے بھی احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کیلئے ایک قرارداد پیش کی جس کا متن درج ذیل ہے۔” جناب سپیکر قومی اسمبلی پاکستان۔محترمی! ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں ! ہرگاہ کے یہ ایک مکمل مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعلومی کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اسکا جھوٹا اعلان بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں، اسلام کے بڑے احکام سے غداری تھی۔نیز ہرگاہ کے وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اسلام کو جھٹلانا ہے۔نیز ہرگاہ کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اُسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔نیز ہر گاہ کہ ان کے پیروکار، چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے ، مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا ایک بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔نیز ہرگاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں، جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر اہتمام 6 اور 10 اپریل 1974 ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دُنیا بھر کے تمام حصوں سے 140 مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی ، متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت، اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے، جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعوی کرتی ہے۔اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، انہیں کوئی بھی نام دیا جائے ،مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تا کہ اس اعلان کو مؤثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر انکے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں“۔قومی اسمبلی نے پورے ایوان کو ایک خصوصی کمیٹی کی شکل دے کر جماعت احمدیہ کے نمائندگان کو اسمبلی میں پیش ہونے کا پابند کیا۔جماعت احمدیہ نے اپنا موقف ایک محضر نامہ کی شکل میں پیش کر دیا جس میں ایوان کی اس حیثیت اور اختیار کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ کسی کے ایمان کے بارے میں فیصلہ کرے۔چنانچہ محضر نامہ کے آغاز ہی میں لکھا کہ:۔پیشتر اس کے کہ ان دونوں قرار دادوں میں اُٹھائے جانے والے سوالات پر تفصیلی نظر ڈالی جائے ہم نہایت ادب سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے یہ اصولی سوال طے کیا جائے کہ کیا دُنیا کی کوئی اسمبلی بھی فی ذاتہ اس بات کی مجاز ہے کہ:۔اول: کسی شخص سے یہ بنیادی حق چھین سکے کہ وہ جس مذہب کی طرف چاہے منسوب ہو؟