احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 3
اسلامی مکہ مکرمہ نے صدر پاکستان جناب محمد ضیاء الحق صاحب مرحوم سے وفد بھجوانے کی درخواست کی۔پاکستانی حکومت نے مولانا تقی عثمانی، جناب محمد افضل چیمہ سید ریاض الحسن گیلانی، مولانا مفتی زین العابدین جناب پروفیسر غازی محمود احمد کو افریقہ بھجوا دیا۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ختم نبوت حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر اور عبدالرحمن یعقوب باوا کیس کی پیروی کیلئے افریقہ گئے۔قومی اسمبلی میں قادیانی اور لاہوری مرزائیوں پر جو جرح ہوئی تھی جناب جنرل ضیاء الحق صاحب نے اپنے خصوصی آرڈر سے پاکستانی وفد کو اس کی مکمل کاپی فراہم کر دی۔حضرت مولانا مفتی محمود مرحوم حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی مرحوم مولانا عبد الحق صاحب مرحوم کی یادداشتوں اور ان کو بحیثیت ایک ممبر قومی اسمبلی جو کارروائی کی کا پیاں ملتی تھیں اس مواد سے زیر نظر کتاب کو جنوبی افریقہ بھیجی جانے والی اصل کا رروائی کے ساتھ ملا کر کتاب کو فائنل کر دیا گیا ہے۔“ گویا اب بھی موصوف واضح طور پر یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ اصل کارروائی کا مکمل ریکارڈ ہے۔بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ یادداشتوں کو ضیاء الحق صاحب کی فراہم کردہ ” مکمل کاپی اور جنوبی افریقہ بھیجی جانے والی ” اصل کارروائی کے ساتھ ملا کر کتاب کو فائنل کر دیا گیا ہے۔مگر یہ بات بھی جھوٹ سے خالی نہیں۔جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں تین مقدمات زیر سماعت آئے جن کی تفصیل یہ ہے۔ا۔مقدمہ نمبر : 10058/82 عنوان : اسمعیل پیک بنام مسلم جوڈیشل کونسل۔عدالت: سپریم کورٹ جنوبی افریقہ Cape of Good Hope پراونشل ڈویژن ۲- مقدمہ نمبر : 1438/86 عنوان : محمد عباس جسیم بنام شیخ ناظم محمد وغیرہ عدالت: سپریم کورٹ جنوبی افریقہ Cape of Good Hope پراونشل ڈویژن ۳۔مقدمہ نمبر : 201/92 عنوان : شیخ ناظم محمد وغیرہ بنام محمد عباس جسیم عدالت سپریم کورٹ جنوبی افریقہ اپیل ڈویژن اللہ وسایا صاحب کا کہنا یہ ہے کہ آج سے سالہا سال پہلے جنرل ضیاء الحق نے اپنے خصوصی آرڈر سے پاکستانی وفد کو اس کارروائی کی مکمل کاپی فراہم کر دی۔جناب اللہ وسایا نہ تو پاکستانی وفد میں شریک تھے اور نہ ہی ان علماء میں ان کا نام دکھائی دیتا ہے جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جنوبی افریقہ گئے اور نہ ہی وہ یہ بتاتے ہیں کہ وفد کے کس رکن سے انہوں نے جنوبی افریقہ بھیجی جانے والی کارروائی حاصل کی۔جنوبی افریقہ والے مقدمات 1994 ء سے بہت پہلے سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستانی وفد بہت پہلے جنوبی افریقہ جا چکا تھا لہذا اگر جنوبی افریقہ والے مقدمہ کی پیروی کے دوران کا رروائی کی نقل حاصل ہو چکی تھی تو اللہ وسایا صاحب نے اس وقت یہ ذکر کیوں نہ کیا؟ اس وقت مکمل “روداد دستیاب تھی تو اجمال “ کا نقاب اوڑھنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اور ضیاء الحق صاحب نے کسی اختیار کے تحت چپکے چپکے اسمبلی کی کاروائی ان کے حوالہ کر دی ؟ اور کی بھی یا نہیں اس کی سند کیا ہے؟ وزیر قانون کا ریزولیوشن اور حزب اختلاف کی تحریک ۳۰ جون ۱۹۷۴ء کو پیش کئے گئے تھے۔اللہ وسایا صاحب نے کارروائی کا آغاز ” ۵ اگست ۱۹۷۴ ء کی کارروائی سے کیا ہے۔۵ اگست سے تو جرح کا آغاز ہوا۔۳۰/ جون اور ۵ /اگست کے درمیانی عرصہ کی کارروائی بھی غائب ہے۔وہ بیان جس پر جرح کی گئی وہ بھی غائب ہے۔الغرض یہ بات تو واضح ہے کہ اللہ وسایا کی شائع کردہ کتاب قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی ” مکمل کارروائی ہرگز نہیں۔اسے مکمل کارروائی قرار دینا جھوٹ اور تلیس کے سوا کچھ نہیں۔