احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 2
کہ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی کارروائی بھی ایک سیاسی طالع آزما اور مذہب کے ٹھیکیداروں کے مابین ایک سازش اور گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھی۔اللہ وسایا جس بت کو خدا بنائے بیٹھے ہیں اور وہ پارلیمنٹ جس کی قرارداد کو وہ فرمان الہی اور فرمودات رسول سے بڑھ کر کوئی چیز سمجھ بیٹھے ہیں اس کا اپنا یہ عالم ہے کہ اسے کسی پہلو را نصیب نہیں۔آئے دن بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہے ، چشم بینا کیلئے پارلیمنٹ کے اس حشر میں کافی سامان عبرت موجود ہے۔مگر جناب اللہ وسایا ان لوگوں میں سے ہیں جو دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے اور کوئی تازیانہ عبرت ان کی آنکھیں نہیں کھولتا۔اس اسمبلی کے نمائندوں کے بارہ میں اللہ وسایا کے ممدوح ” خادمِ اسلام“ جناب ضیاء الحق کی حکومت نے قرطاس ابیض شائع کیا۔اس سے خوب ظاہر ہے کہ وہ کس کردار کے حامل، کیسے لوگ تھے اور دینی امور میں اجتہاد یا رائے دینے کے کتنے اہل تھے جنہوں نے ایک مہتم بالشان معاملہ میں مداخلت فی الدین کی جرات کی۔رہ گئے جناب اللہ وسایا کے اکابرین علماء حضرات تو انہوں نے اٹارنی جنرل کی اس دینی مسئلہ میں جو امداد کی وہ قارئین آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔مسئلہ ختم جبوت سے متعلق تحریک کا سامنا کرنے کا تو حوصلہ ہی علماء حضرات کو نہ ہوا۔ان کی علمی بے بسی اور عجز کا اعتراف تو پہلے ہی دن ہو گیا جب انہوں نے وزیر قانون کی طرف سے پیش کردہ، ختم نبوت سے متعلق قرارداد سے جان چھڑانے کی خاطر اپنی ایک الگ قرار داد پیش کر دی۔قادیانیت کی جس شکست اور اپنی جس فتح کا اعلان اللہ وسایا موصوف کر رہے ہیں اس پر خود ان کے اپنے اعتماد کا یہ عالم ہے کہ خدمت اسلام کی مہم میں وہ دروغگو ئی اور تلبیس اور اخفاء حق کے مختلف حیلوں بہانوں کی آڑ لئے بغیر اپنی کاروائی پر اعتماد نہیں کر پا رہے۔قریب نصف درجن جھوٹ تو اللہ وسایا کے رقم کردہ دیباچہ ہی سے جھانکتے نظر آتے ہیں۔قطع و برید اور تحریف کا شاہکار زیر نظر کتاب کی اشاعت اول جولائی ۲۰۰۰ء ظاہر کی گئی ہے مگر اللہ وسایا صاحب کی طرف سے رقم کردہ دیباچہ کے آخر میں اس کتاب کو جدید اور خوبصورت ایڈیشن“ قرار دیا گیا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتاب کی اشاعتِ اول نہیں ہے۔امر واقع یہی ہے کہ اس سے پہلے 1998ء میں اللہ وسایا صاحب کی طرف سے ایک کتاب ” قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ ۱۳ روزہ کارروائی کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔اس وقت اللہ وسایا صاحب نے جو مقد مہ تحریر کیا اس میں یہ لکھا:۔اس وقت اسمبلی کے اراکین مفکر الاسلام مولانا مفتی محمود، شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزاروی، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق اور دوسرے اکابر سے اسمبلی کی کارروائی کے متعلق زبانی اور تحریری جو معلومات حاصل ہوتی رہیں۔ممبران اسمبلی سے سوالات و جوابات کی تفصیل قلمبند ہوتی رہی۔مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا محمد حیات فاتح قادیان کی یادداشتوں سمیت جو کچھ بن پڑا حاضر خدمت ہے۔“ گویا اس بات کے تو اللہ وسایا صاحب خود اقبالی ہیں کہ قومی اسمبلی کی تیرہ دن کی جو مبینہ کارروائی انہوں نے شائع کی تھی اسے اسمبلی کے ریکارڈ سے مرتب نہیں کیا تھا۔بلکہ یہ بھان متی کا کنبہ انہوں نے زبانی اور تحریری معلومات اور مختلف اراکین سے حاصل کردہ یادداشتوں سے جوڑا تھا۔حالانکہ اسمبلی کے قواعد کی رو سے موصوف کے اکابرین اللہ وسایا صاحب کو یہ معلومات مہیا کرنے کے مجاز ہی نہیں تھے۔لہذا اللہ وسایا صاحب نے یا تو ان مرحوم اکابرین پر قواعد کی خلاف ورزی کا داغ لگایا ، یا خود جھوٹ کے مرتکب ہوئے۔۱۹۹۴ ء کی اشاعت کے مقدمہ میں اللہ وسایا صاحب نے مزید لکھا: میں یہ تو عرض کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں کہ تحریک ختم نبوت 74 کی یہ دوسری جلد قومی اسمبلی کی مکمل کارروائی پر مشتمل ہے تاہم اگر کسی دن قدرت کو منظور ہوا اور یہ کاروائی حکومت نے شائع کر دی تو انشاء اللہ العزیز ہمیں اپنی دیانت پر اتنا اعتماد ہے کہ آپ کو سوائے تفصیل اور اجمال کے اور کوئی فرق نظر نہیں آئیگا۔“ یہ ان کا دوسرا اقرار تھا کہ کارروائی مکمل نہیں بلکہ بقول انکے صرف ” اجمال“ ہے۔حالانکہ در اصل جسے وہ اجمال قرار دے رہے تھے وہ اجمال نہیں قطع و برید اور تحریف کا شاہکار تھا۔اب اسی کارروائی کو، جسے اجمال“ کے پردے میں شائع کیا گیا تھا بڑی ڈھٹائی سے مکمل روداد کے نام سے شائع کر دیا گیا ہے۔چنانچہ زیر نظر کتاب میں اللہ وسایا کا یہ دعویٰ ہے کہ: آج سے سالہا سال پہلے جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے بارہ میں ایک کیس تھا۔اس کیس کی پیروی کے لئے رابطہ عالم