احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 23 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 23

کر اختیار کیا ہے۔( نور القرآن نمبر ۲ بعنوان ناظرین کیلئے ضروری اطلاع، روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ۳۷۵۔۳۷۴) ان تحریرات کو سیاق وسباق سے کاٹ کر عیسی کی تو ہین قرار دینا کسی مسلمان کیلئے اپنی غیرت کا جنازہ نکالنے والی بات ہے۔جب آنحضرت ﷺ پر گندے الزام لگائے گئے تو غیرت کا تقاضہ یہ تھا کہ عیسائیوں کو یسوع کے بارے میں آئینہ دکھایا جا تا۔طرز تحریر اور زور بیان سمجھنے کی چیزیں ہیں۔در اصل اہل علم اور اہلِ کلام میں یہ ایک معروف طریق ہے کہ بعض اوقات فریق مخالف کو اس کے اپنے معتقدات یا بیانات کا آئینہ دکھا کر اسے لا جواب کیا جاتا ہے۔اس طریق کو الزامی جواب بھی کہتے ہیں۔الزامی جواب کے بھی کئی طریق ہوتے ہیں۔خود مرزا صاحب کے اپنے زمانے میں بعض دیگر علماء نے یہ طریق اختیار کیا۔یہ طرز استدلال اُس زمانے کے اہل علم کے دستور کے مطابق تھا۔بریلوی فرقہ کے لوگ مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی کو چودہویں صدی کا مجد د مانتے ہیں اور پاکستانی عوام کی اکثریت بریلوی ہے۔وہ لکھتے ہیں :۔نصاری ایسے کو خدا مانتے ہیں جو مسیح کا باپ ہے ایسے کو جو یقیناً دغا باز ہے، پچھتاتا بھی ہے تھک بھی جاتا۔۔۔- (العطايا النبويه في الرضویہ صفحه ۷۴۰، ۱ ۷۴ ) اور یہ انداز دیگر علماء نے بھی اختیار کیا ہے۔اہل حدیث کے عالم نواب صدیق حسن خان صاحب ایک واقعہ یوں لکھتے ہے۔ہیں:۔66 ایک بار ا یک اینچی روم پاس بادشاہ انگلستان کے گیا تھا۔اس مجلس میں ایک عیسائی نے اس کو مسلمان دیکھ کر یہ طعن کیا کہ تم کو کچھ خبر ہے کہ تمہارے پیغمبر کی بی بی کولوگوں نے کیا کہا تھا۔اس نے جواب دیا ہاں مجھ کو یہ خبر ہے کہ اس طرح کی دو بیبیاں تھیں جن پر تہمت زنا کی لگائی گئی تھی مگر اتنا فرق ہوا کہ ایک بی بی پر فقط اتہام ہوا، دوسری بی بی ایک بچہ جن لائیں۔وہ نصرانی مبہوت ہوکر رہ گیا“۔(ترجمان القرآن جلد اول صفحه ۴۳۰، نواب صدیق حسن خان صاحب سورة آل عمران زير آيت اذ قالت الملئكة يمريم ان الله يبشرك بكلمة منه ، مطبوعه مطبع احمدی لاہور) مولوی آل حسن صاحب اپنی کتاب ” استفسار میں جو ازالتہ الا وہام مؤلفہ مولوی رحمت اللہ صاحب کرانوی مہاجرمکی کے حاشیہ پر چھپی ہے، تحریر فرماتے ہیں:۔ارے ذرے گریبان میں سر ڈال کر دیکھو کہ معاذ اللہ حضرت عیسی کے نسب نامہ مادری میں دو جگہ تم آپ ہی زنا ثابت کرتے ہو“۔(صفحه )۳۷ ان (پادری صاحبان ) کا اصل دین و ایمان آکر یہ ٹھہرا ہے کہ خدا مریم کے رحم میں جنین بن کر خون حیض کا کئی مہینے تک کھاتا رہا اور علاقہ سے مضغہ بنا اور مضغہ سے گوشت اور اس میں ہڈیاں بنیں اور اس کے مخرج معلوم سے نکلا اور ہگتا ہو تا رہا۔یہاں تک کہ جوان ہو کر اپنے بندے تجلی کا مرید ہوا اور آخر کو ملعون ہو کر تین دن دوزخ میں رہا۔(صفحه۳۵۱،۳۵۰ ) پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسی کا سب بیان معاذ اللہ جھوٹ ہے اور کرامتیں اگر بالفرض ہوئی بھی ہیں تو ویسی ہی ہونگی جیسی مسیح دجال کی ہونے والی ہیں“۔(صفحہ ۳۷۱) جس دور کا ذکر ہے اُس دور میں پادریوں نے ہندوستان میں طوفان اٹھا رکھا تھا۔مسلمان مسجدوں کے علماء عیسائیت قبول کر کے پادری بن رہے تھے۔آگرہ کی جامع مسجد کے خطیب مولا نا عماد الدین، پادری عمادالدین بن گئے۔اس ماحول میں جو اسلام کا در در کتے تھے اور جنہیں آنحضرت ﷺ کی غیرت تھی انہوں نے پادریوں کی طرف سے آنحضرت ﷺ پر بے جا حملوں کے جواب کے لئے وہی انداز اختیار کیا۔یہ اسلام اور آنحضرت ﷺ کی غیرت کا سوال تھا۔انجیل کے مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مسیح نے اجنبی عورتوں سے اپنے سر پر عطر ڈلوایا۔(متی ۲۲:۱، مرقس ۱۴:۳، يوحنا ۱۲:۲ ، اہل حدیث امرتسر ۳۱ مارچ ۱۹۳۹ء) الزامی جواب کی یہ چند مثالیں دیگر بزرگوں کی کتب سے پیش کی گئی ہیں جن میں وہی انداز اختیار کیا گیا ہے۔جو مبینہ سخت الفاظ حضرت مسیح کے بارے میں بیان کئے جاتے ہیں وہ دراصل اُس فرضی یسوع کے بارے میں ہیں جس کو عیسائی بطور خدا پیش کرتے تھے۔ظلم و تعدی کرنے والے بد زبان معترضین کے لئے الزامی جواب کا یہ انداز جو مرزا صاحب نے اختیار کیا وہ قرآن حکیم کی اس تعلیم کے عین مطابق تھا۔وَلَا تُجَادِلُوْا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَن إِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُم} -