احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 28 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 28

14) ترجمہ: '' اس بات کے زبانی اور تحریری طور پر قطعی ثبوت موجود ہیں کہ فیروز پور کی تحصیل اور ستلج اور بیاس کے درمیانی علاقوں کے بارے میں ایوارڈ میں ردو بدل کیا گیا۔“ قائد اعظم جو ایسے معاملوں میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے خود انہوں نے فرمایا:۔The division of India has now been finally and irrevocably effected۔No doubts, we feel the carving out of this great independent sovereign Muslim state has suffered injustices۔We have been squeezed in as uch as it was possible in the latest blow that we have an unjust, It is the Award of the boundary commmission۔received was incomprehensible and even perverse Award۔It may be wrong unjust and perverse and it may not be a judicial but political Award, but we had agreed to abide by it and it is binding upon us۔As honorable people, wemust abide by it۔(Speeches and Statements of Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinah(Lahore: Research Society of Pakistan; 1976) Page; 432) ترجمہ:۔ہندوستان کی تقسیم اب حتمی اور ناقابل تنسیخ طور پر عمل میں آچکی ہے۔اس میں بلاشبہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس عظیم خود مختار مسلم ریاست کے قیام میں نا انصافیاں ہوئی ہیں اور باؤنڈری کمیشن کے ہاتھ جو ہمیں آخری ضرب پہنچی ہے اس کے ذریعہ ہمیں جہاں تک ہو سکا ہے سکیٹر دیا گیا ہے۔یہ ایک غیر منصفانہ نا قابل فہم بلکہ غلط ایوارڈ ہے۔گو یہ غیر منصفانہ اور غلط ایوارڈ ہے اور یہ انصاف کی بجائے سیاست پر مبنی ایوارڈ ہے لیکن ہم نے اسے تسلیم کرنے کا اقرار کیا تھا اور اب ہم اس کے پابند ہیں۔ایک با وقار قوم کی حیثیت سے ہمیں اسے قبول کرنا ہو گا۔“ دنیا بھر کے محققین ریڈ کلف کی شرمناک بد دیانتی پرمتفق ہیں۔مگر مجلس احرار، کانگریسی علماءاور مجلس ختم نبوت کا ساراز وراس بات پر ہے کہ ریڈ کلف بیچارہ کیا کرتا، احمدیوں نے اعداد و شمار ہی ایسے دے دیئے۔گویا ریڈکلف تو نہایت صاف ستھرا، دیانتدار اور منصف مزاج آدمی تھا، ایوارڈ بالکل درست ہورہا تھا، احمدیوں نے الگ میمورینڈم داخل کر کے یا اعداد و شمار داخل کر کے گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کرنے کا راستہ صاف کر دیا۔یہ ریڈ کلف کے گماشتے اتنا بھی نہیں جانتے کہ گورداسپور اور زیرہ وغیرہ اعداد و شمار کی بنا پر ہندوستان کو نہیں دیئے گئے ، Other Factors کی بنیاد پر دیئے گئے۔اس بارے میں بددیانت اور ظالم ریڈ کلف کو خود بھی شرم آئی اور وہ جو کسی بات کی توجیہ پیش کرنے کا پابند نہیں تھا اسے تو جیہ پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی۔چونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ کھلی کھلی بددیانتی کا مرتکب ہورہا تھا، اس لئے اس نے ایک لولا لنگڑا عذر پیش کر دیا۔The Partition of Punjab کے شروع میں پیش لفظ کے بعد شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون ریڈ کلف ایوارڈ کے بارہ میں شامل کیا گیا ہے۔اس مضمون میں شریف الدین پیرزادہ جسٹس منیر کے مضمون Days to Remember کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گورداسپور کے بارہ میں ریڈ کلف سے گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس منیر نے لکھا ہے: It was a Muslim majority area and, therefore if a district was to be taken as a unit, the whole of it had to go to Pakistan۔But if۔۔۔۔۔the district had to be partitioned, the Pathankot Tehsil could۔۔۔be separated from it and joined with the contiguous non-Muslim area۔Shakargarh was not only a Muslim majority area but also a physical entity, with the Ravi as its eastern boundary, and could not conceivably be split up۔(27e) ترجمہ:۔” یہ مسلمان اکثریت کا علاقہ تھا لہذا اگر ضلع کوا کائی سمجھا جاتا تو یہ سارا ضلع پاکستان کو جانا چاہئے تھا لیکن اگر ضلع کو تقسیم کرنا تھا تو پھر پٹھانکوٹ کو اس سے الگ کیا جاسکتا تھا۔شکر گڑھ نہ صرف مسلم اکثریتی علاقہ تھا بلکہ طبعی طور پر کائی تھا کیونکہ راوی اس کی مشرقی سرحد بنتا تھا اور یوں اسے توڑنے کا کوئی تصور نہیں تھا“۔یہ اسی مضمون کا حوالہ ہے جس کا ذکر اٹارنی جنرل کر رہے ہیں۔گویا جسٹس منیر واضح طور پر لکھ رہے ہیں کہ گورداسپور مسلمان اکثریتی علاقہ ہی تھا۔کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ اس کی مسلم اکثریت احمدیوں کی وجہ سے گھٹ گئی تھی۔جسٹس منیر مزید لکھتے ہیں:۔