احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 27 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 27

(Ch۔Muhammad Ali, Emergence of Pakistan; Published by Research Society of Pakistan ; Page 218) ترجمہ:۔” جب میں دہلی پہنچا تو میں ائر پورٹ سے سیدھا وائسرائے ہاؤس گیا جہاں لارڈ ایز مے کام کیا کرتے تھے۔مجھے بتایا گیا کہ لارڈ ایز مے سر سیرل ریڈ کلف کے ساتھ بند کمرے میں مصروف ہیں۔میں نے فیصلہ کیا کہ ان کے فارغ ہونے تک میں انتظار کروں گا۔تقریبا ایک گھنٹے بعد جب میں ان سے ملا تو میں نے انہیں قائد اعظم کا پیغام دیا۔جوابا لارڈ ایز مے نے باؤنڈری کمیشن سے متعلق ریڈ کلف کے خیالات کے بارہ میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ نہ تو انہوں نے خودا اور نہ ماؤنٹ بیٹن نے اس مسئلہ پر ان سے کوئی گفتگو کی ہے۔فیصلہ کرنا کلیڈ ریڈ کلف کا کام ہے اور کسی قسم کی کوئی تجویز نہ انہیں دی گئی ہے اور نہ دی جائے گی۔جب میں نے ایز مے کو ان اطلاعات کی تفصیلات سے آگاہ کیا جو ہمیں مل رہی تھیں تو انہوں نے کہا کہ وہ میری بات سمجھ نہیں سکے۔کمرے میں ایک نقشہ لٹکا ہوا تھا میں نے انہیں اس نقشہ کی طرف بلایا تا کہ نقشہ کی مدد سے صورتحال واضح کرسکوں۔پنجاب کے نقشہ کے بیچوں بیچ پنسل سے ایک لائن کھینچی ہوئی تھی اور یہ لائن اس باؤنڈری کے مطابق تھی جس کی اطلاعات قائد اعظم کو مل رہی تھیں۔میں نے کہا کہ اب مزید وضاحت ضروری نہیں ہے۔کیونکہ نقشہ پر موجود لائن اس باؤنڈری کو ظاہر کر رہی ہے جس کے بارہ میں میں بات کر رہا ہوں۔ایز مے کا رنگ پیلا پڑ گیا اور گھبراہٹ میں کہنے لگے ان کے نقشہ کو کون چھیڑتا رہا ہے۔یہ لائن حتمی باؤنڈری سے صرف ایک لحاظ سے مختلف تھی یعنی فیروز پور اور زیرہ کی مسلمان اکثریت والی تحصیلیں اس وقت تک بھی اس نقشہ میں پاکستان کی طرف تھیں“۔جسٹس منیرا اپنی کتاب From Jinah to Zia میں لکھتے ہیں۔Another occasion for us to resign arose when after an interview with Sir Cyril at Simla Mr۔Justice Din Muhammad came out with the impression that practically the whole of Gurdaspur with a link to Kashmir was going to India, but we were again (From Jinah to Zia;2nd Edition, Page 12) asked to proceed with our work۔ترجمہ:۔” ہمارے استعفیٰ دینے کا ایک اور موقعہ اس وقت پیدا ہوا جب شملہ میں سر سیرل سے ایک انٹرویو کے بعد جسٹس دین محمد یہ تاثر لے کر باہر آئے کہ گورداسپور کا سارا ضلع کشمیر کو ایک رابطہ کے ساتھ ہندوستان کو جا رہا ہے۔لیکن ہمیں پھر یہ کہا گیا کہ ہم اپنا کام جاری رکھیں۔“ پھر آگے چل کر گورداسپور کے بارہ میں لکھتے :۔One of the moot points was Gurdaspur, a Muslim majority district and it became predominantly Muslim area if Pathankot was adjoined to the adjacent Hindu areas to the east۔But Pathankot being not exclusively Hindu, the adhopur Headworks, which would mostly irrigate Muslim majority areas, with the area to the west of it, should be awarded to Pakistan, But the argument had no effect on him and he gave both Gurdapur and Batala, which had a Muslim majority, to India۔Ajnala Tehsil in Ameritsar also, which was Muslim area (59۔04) he refused to join with the district of Lahore and (From Jinah to Zia; 2nd Edition, Page 13) Igave it to India۔ترجمہ : ” زیر بحث سوالات میں سے ایک گورداسپور تھا جو مسلم اکثریت کا ضلع تھا اور اگر اس میں سے پٹھان کوٹ مشرقی جانب ہندو اکثریت کے حصہ کے ساتھ شامل کر دیا جاتا تو گورداسپور میں غالب اکثریت مسلم اکثریت ہو جاتی۔لیکن پٹھان کوٹ چونکہ کلیۂ ہند و علاقہ میں تھا اور مادھو اور ہیڈ ورک سے زیادہ تر مسلم اکثریت کے علاقوں کی آب پاشی ہوئی تھی اس لئے یہ اس کی مغربی جانب کا حصہ پاکستان کو جانا چاہئے۔لیکن اس دلیل کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے گورداسپور اور بٹالہ دونوں مسلم اکثریت کے علاقے ہندوستان کو دے دیئے۔امرتسر کی تحصیل اجنالہ جو مسلمان علاقہ تھا (59۔04) کو اس نے لاہور کے ساتھ شامل کرنے سے انکار کر دیا اور وہ بھی ہندوستان کو دے دیا۔“ جسٹس منیر مزید لکھتے ہیں:۔There is conclusive proof, oral as well as documentary, that the award was altered in respect of the Ferozepure Tehsils and the areas that lie between the angle of the (From Jinah to Zia; 2nd Edition, Page Beas and the Satluj۔