احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 26
مسلمان 18055 اور غیر مسلم 4641۔دوسرا بٹالہ کا شہر اور مضافاتی گاؤں ہیں جہاں مسلمان 45181 اور غیر مسلم 4664۔تیسرا حصہ قادیان ہے جہاں مسلمان 10226 اور غیر مسلمان 1135 ہیں۔اگر ہم تینوں کو اکٹھالے لیں تو مسلمانوں کی مجموعی تعداد 73462 اور غیر مسلموں کی 22227 ہے“۔(Partition Of Punjab Vol۔II;P:528) گویا ساری کارروائی کے دوران قادیان اور احمدیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شامل کیا جاتا رہا۔لہذا یہ کہنا کہ احمدی الگ ہو گئے اور مسلمانوں کی اکثریت گھٹ گئی ، ایک بیہودہ ، نامعقول اور شرمناک جھوٹ ہے اور سرکاری ریکارڈ اس جھوٹ کی تردید کر رہا ہے۔شیخ بشیر احمد کی بحث کے دوران جب احمدیوں کی تعداد 5,00,000 بتائی گئی تو جسٹس تیجہ سنگھ نے پوچھا: مسٹر جسٹس تیجہ سنگھ: کیا انہیں گزشتہ مردم شماری کے دوران علیحدہ شمار کیا گیا تھا۔شیخ بشیر احمد : گزشتہ مردم شماری میں احمدیوں کا کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا۔جو فرق تسلیم کیا گیا وہ یہ تھا کہ اگر کوئی خود کوشید ظاہر کرے تو اس کو شیعہ درج کیا جائے اور اگر کوئی شخص کوئی اور تفصیل بتائے تو اس کو سنی درج کیا جائے“۔مگر اٹارنی جنرل با اصرار اس بات کو پیش کرتے رہے کہ احمدیوں نے باؤنڈری کمیشن میں الگ میمورینڈم پیش کر کے خود کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا جس سے مسلمانوں کی تعداد گھٹ گئی اور گورداسپور، ہندوستان کو چلا گیا۔اٹارنی جنرل صاحب مسلم لیگی تھے اور سیاسی کارکن رہے ہیں۔اگر پہلے احراری لیڈروں کے مسلسل جھوٹ کے زیر اثر وہ کوئی غلط تاثر قائم کر بھی چکے تھے تو باؤنڈری کمیشن کی پوری کارروائی شائع ہو چکی ہے، اس سے استفادہ کر سکتے تھے۔یقیناً جناب سکی بختیار پڑھنے لکھنے کا ذوق رکھتے ہوں گے اور ان تاریخی دستاویزات کا مطالعہ تو انکا محبوب مشغلہ رہا ہو گا۔ان کے علم میں ہونا چاہئے تھا کہ یہ اعتراض مجلس احرار کی طرف سے اٹھایا گیا، کبھی مسلم لیگ کی ہائی کمان کی طرف سے یہ اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔مذہبی امور میں مولوی حضرات کے مہیا کردہ سوالات کے بارہ میں اٹارنی جنرل صاحب کی مجبوری سمجھ میں آسکتی ہے مگر اس سیاسی سوال پر اٹارنی جنرل صاحب کی لاعلمی نا قابل فہم ہے۔اللہ وسایا کی کتاب سے ظاہر ہے کہ اٹارنی جنرل باؤنڈری کمیشن میں جماعت احمدیہ کے میمورینڈم کا مطالعہ کر چکے تھے، کیونکہ احمدیوں کی تعداد کے بارے میں اُسی میمورینڈم کے حوالہ سے دوسری جگہ سوال و جواب موجود ہے۔یہ اب تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ریڈ کلف کا ایوارڈ غیر منصفانہ تھا۔ایوارڈ کا اعلان کرنے میں تاخیر ہورہی تھی۔طرح طرح کی خبریں سننے میں آرہی تھیں۔جنکی وجہ سے چوہدری محمد علی صاحب جو مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے وہ قائد اعظم کے ارشاد پر قائد اعظم کی تشویش کا اظہار کرنے کے لئے دہلی تشریف لے گئے اور یہ تشویش ضلع گورداسپور کے بارے میں تھی۔اس بارے میں چوہدری محمد علی کا بیان یہ ہے:۔When I reached Delhi, I went straight from the airport to the Viceroy's house where Lord Ismay was working۔I was told that Lord Ismay was closeted with Sir Cyril Radcliffe۔I decided to wait until he was free۔When, after about an hour, I saw him, I conveyed to him the Quaid-e-Azam's message۔In reply Ismay professed complete ignorance of Radcliffe's ideas about the boundry and stated categorically that neither Mountbatten nor he himself had ever discussed the question with him۔It was entirely for Radcliffe to decide and no suggestion of any kind had been or would ever be made to him۔When I plied Ismay with details of what had been reported to us, he said he could not follow me۔There was a map hanging in the room and I beckoned him to the map so that I could explain the position to him with its help۔There was a pencil line drawn across the map of the Punjab۔The line followed the boundary that had been reported to the Quaid-e-Azam۔I said that it was unneccessary for me to explain further since the line, already drawn on the map, indicated the boundary I had been talking about۔Ismay turned pale and asked in confusion who has been fooling with his map۔This line differed from the final boundary in only one respect that the Muslim majoraty Tehseels of Ferozupr and Zera in the Ferozpur district were still on the side of Pakistan as in the sketch-map۔