احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 18
اشتعال انگیزی کرنا ج نا چاہتے ہیں کہ احمدی تمام مسلمانوں کو مطلقاً کا فرسمجھتے ہیں۔مگر اہل انصاف کیلئے یہ نقطہ نظر سمجھنے میں کوئی وقت نہیں کہ جو خود کو مسلمان کہتا ہو اور پانچ ارکان اسلام پر ایمان کا زبانی اقرار کرتا ہو وہ مسلمان ہی رہتا ہے، اُمت مسلمہ سے خارج نہیں ہوتا۔جو شخص بھی دیانتداری سے اپنی کمزوریوں، کوتاہیوں، گناہوں، نافرمانیوں پر نظر ڈالے گا وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ خدا کے رسول نے اس پر بہت بڑا احسان کیا کہ ان تمام کوتاہیوں کے باوجود اس کے مسلمان ہونے کو ایسا تسلیم کیا کہ خدا اور اس کے رسول کا ذمہ قرار دے دیا۔یہی بات جب منیر انکوائری میں امام راغب کے حوالے سے جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی نے کہی یا قومی اسمبلی میں جماعت کے خلیفہ ثالث نے کہی تو اُن لوگوں کی سمجھ میں نہ آئی ہو جو سیاست کے نام پر ووٹ لے کر آئے تھے، جنہیں ایمانیات پر رائے دینے کا بھی حق نہ تھا مگران چند حضرات کی سمجھ میں تو ضرور آجانی چاہیے تھی جن کے مدارس میں انہی حوالوں سے ایمان اور اسلام کی بحثیں پڑھائی جاتی ہیں۔جماعت احمدیہ کا نقطہ نظر چونکہ ان وضاحتوں کے ساتھ عوام کو با آسانی سمجھ آ سکتا تھا۔ان حضرات پر یہی دھن سوار تھی کہ ” ہاں یا نہ میں جواب دو۔وضاحت نہ کرو۔مضمون کوکھول کر نہ بیان کرو۔آخر کیا مقصد تھا ؟ کہ کہیں عوام اصل بات کو سمجھ نہ لیں۔اور جب امام جماعت احمدیہ، اس مرد خدا نے اس شور وغوغا کے باوجود مسئلہ کھول کر بیان کر دیا تو اٹارنی جنرل صاحب کہتے ہیں کہ:۔یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں بالکل نہیں سمجھ سکا۔میں نے یہ مجھنے کی انتہائی کوشش کی کہ جب ایک شخص کا فر ہو جاتا ہے تو شخص کیسے دائرہ اسلام سے خارج ہے مگر ملت محمدیہ سے نہیں۔“ (صفحہ ۳۰۷) مگر جب ان فتاوی کفر کا سامنا کرنا پڑا جو سب فرقے ایک دوسرے پر لگا چکے ہیں تو اٹارنی جنرل خود علامہ اقبال کا یہ وہ اقتباس نقل کرتے ہیں:۔فقہ کا طالب علم جانتا ہے کہ ائمہ فقہ اس قسم کے کفر کو کفر کم تر از کفر سے موسوم کرتے ہیں یعنی اس طرح کا کفر مجرم کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا“۔(صفحہ ۲۸۳) اتنی بات تو اٹارنی جنرل صاحب کی سمجھ میں بھی آگئی کہ ثانوی درجہ کا کفر بھی ہوتا ہے۔وہی بات جو امام راغب نے کہی ، جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی نے کہی ، اب وہی بات مرزا ناصر احمد صاحب کہہ رہے ہیں، وہی بات خود اٹارنی جنرل صاحب علامہ اقبال کے حوالہ سے دہرا بھی رہے ہیں، مگر پھر بھی اصرار ہے کہ آپ ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے۔(V) ے کہ دانم مشکلات لا اله بات واضح ہو چکی ہے مگر اٹارنی جنرل کلمۃ الفصل“ کے حوالہ سے پھر اسی مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے کہتے ہیں:۔اس موقع پر میں نے مرزا ناصر احمد سے پوچھا کہ ”حقیقی مسلمان سے کیا مراد ہے؟ اس نے اپنے محضر نامے سے بھی سچے مسلمان کی تعریف میں کافی زیادہ تفصیلات بیان کی ہیں۔مرزا ناصر احمد نے کہا کہ ”حقیقی مسلمان کئی ایک ہیں۔میں نے پوچھا: کیا آج بھی ایسے ( حقیقی مسلمان ) موجود ہیں کیونکہ یہ ایک بہت ہی مشکل تعریف ہے۔مسلمان کی تعریف میں مرزا غلام احمد کو نبی ماننے یا نہ ماننے کا کوئی ذکر نہیں۔اس لئے یہ خاصی مشکل تعریف ہے۔مرزا ناصر احمد اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:۔مرزا ناصر احمد : محضر نامے میں اس کا جواب صفحہ ۲۳ پر ہے۔اٹارنی جنرل : ایک پٹھان ایک مولوی کے پاس گیا۔میں بھی پٹھان ہوں۔اس نے مولوی سے پوچھا کہ جنت میں جانے کا کیا طریقہ ہے۔اس نے پہلے تو اسے کہا کہ جنت میں جانے کے لئے نمازیں پڑھیں ، روزے رکھیں، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں۔تو اس نے کہا کہ یہ سب کچھ کیا تو جنت میں جاسکوں گا، تو مولوی نے کہا کہ پل صراط ہوگا، جو تلوار سے تیز ، بال سے باریک ہے۔پٹھان نے کہا آپ صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ جنت میں جانے کا کوئی راستہ نہیں۔میں نے مولوی ا ور پٹھان کی بات کی ہے، آپ نے حقیقی مسلمان کی Definition دی ہے، آپ کو دنیا میں کتنے مسلمان نظر آتے ہیں۔“ جس مشکل تعریف کا ذکر اٹارنی جنرل کر رہے ہیں وہ محضر نامہ سمیت اللہ وسایا صاحب نے کارروائی سے غائب کردی ہے۔وہ تعریف اٹارنی جنرل نے اپنے خطاب میں بانی جماعت احمدیہ کے الفاظ میں بیان نہیں کی۔اس کا ایک حصہ ہم پیش