احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں

by Other Authors

Page 1 of 42

احمدیہ مسئلہ قومی اسمبلی میں — Page 1

احمدیه مسئله قومی اسمبلی میں اللہ وسایا کی کتاب ”پارلیمنٹ میں قادیانی شکست پر تبصرہ ▬▬▬▬▬▬▬▬ (مجیب الرحمان ایڈوکیٹ) منکرین فیضان ختم نبوت، جو عوام الناس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے معروف ہیں، کے طائفہ کے ایک رکن اللہ وسایا نے ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں احمد یہ مسئلہ کے تعلق میں پہلے ۱۹۹۴ء میں قومی اسمبلی میں قادیانی مقدمہ۔۱۳ روزہ کارروائی“ اور پھر ۲۰۰۰ء میں پارلیمنٹ میں قادیانی شکست کے نام سے ایک کتاب شائع کی ہے۔جماعت احمدیہ کی مخالفت میں اس طائفہ کی فطری روش کے مطابق یہ کتاب بھی کتمان حق تلبیس و تحریف : قطع و برید اور دجل و فریب کا ایک پلندہ ہے۔مکرم مجیب الرحمان صاحب نے ، ان بے شمار سعید روحوں کے لئے جو ہر دور میں ہمیشہ سچائی کی تلاش میں رہتی ہیں، ذاتی حیثیت میں، اپنی ذمہ داری پر اس کتاب پر ایک مختصر مگر بھر پور تبصرہ لکھا ہے جو ان کے شکریہ کے ساتھ ہدیہ قارئین ہے۔جناب مجیب الرحمان ایک معروف قانون دان ، پاکستان سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ اور بار کے سینئر رکن ہیں۔بالخصوص بنیادی انسانی حقوق کے حوالہ سے آپ کی مساعی قابل ذکر ہیں۔آپ متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ مل کر کام کرچکے ہیں۔آرڈینینس (XX) کے خلاف قانونی جہد میں فیڈرل شریعت کورٹ عدالت ہائے عالیہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں آپ کی پیروی اسلامی فقہی لٹریچر اور عصری قوانین میں آپ کی گہری نظر اور وسیع مطالعہ کی آئینہ دار ہے۔(مدیر) 6 عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان کی طرف سے شائع کردہ جناب اللہ وسایا کی مرتبہ کتاب بعنوان ” پارلیمنٹ میں قادیانی شکست“ اس وقت ہمارے سامنے ہے۔قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی اس مبینہ کارروائی کی اشاعت غیر قانونی اور بدوں اختیار و بلا اجازت افسران مجاز ہونے کی وجہ سے کسی طرح بھی ایک مستند حوالہ قرار نہیں دی جاسکتی اس قسم کی جعلسازیوں اور گمراہ کن کارروائیوں کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی کی مستند کارروائی جو قانون کے مطابق لفظ بہ لفظ ریکارڈ کی گئی تھی سرکاری طور پر شائع کر دی جائے۔قومی اسمبلی نے خود تو کارروائی شائع نہیں کی اور نہ ہی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اس دیدہ دلیری اور غیر قانونی اشاعت کو قابل اعتناء سمجھا ہے۔لہذا تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کی خاطر ہم نے اس مبینہ کارروائی پر تبصرہ کی اشاعت کو ضروری سمجھا ہے تا کہ سند رہے۔آئندہ صفحات میں اللہ وسایا کی کتاب پر ایک تبصرہ پیش خدمت ہے جس میں ان کو اپنی ہی کتاب کا آئینہ دکھایا گیا ہے۔اللہ وسایا کی یہ کتاب کیوں مستند حوالہ کے طور پر استعمال نہیں کی جاسکتی، یہ قارئین آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق خصوصی کمیٹی احمد یہ مسئلہ پر غور کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی۔لہذا ہم نے اس مضمون کے لئے اسی عنوان کا انتخاب کیا ہے۔(1)۔۔۔۔حافظہ نہ باشد جو لوگ قرآن حکیم کو غور اور تدبر سے پڑھتے ہیں ان پر یہ امرخوب روشن ہے کہ تاریخ مذاہب کے ہر دور میں جب دلیل کا جواب دلیل سے نہیں بن پڑا تو ہمیشہ ہی مذہب کے ٹھیکیداروں نے سیاسی اقتدار کو اپنا حلیف و ہمنوا بنانے کی کوشش کی ہے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ بھی مامورین کی تاریخ سے مختلف نہیں۔اللہ وسایا اس بات کو تاریخ اور دنیا کی نظر سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتے