اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 80 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 80

ازواج النبی 80 حضرت عائشہ ایک اور واقعہ حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے ایک دفعہ آنحضرت طلی تیل ایک تم کو جو خوشگوار موڈ میں دیکھا تو عرض کیا کہ یارسول اللہ علیم ! آپ میرے لئے دعا کریں۔حضور نے حضرت عائشہ کے لئے اسی وقت دعا کی "اے اللہ ! حضرت عائشہ کو بخش دے۔اس کے سارے پہلے گناہ بھی اور اس کے آئندہ کے گناہ بھی اور اس کی جو مخفی خطائیں ہیں وہ بھی اور جو ظاہر ہیں وہ بھی معاف کر دے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اتنی خوش ہوئی کہ ہنس ہنس کے اپنا سر حضور کی گود میں ڈال دیا۔میری ہنسی از راه تشکر تھی کہ آج اتنی بڑی مغفرت کی دعا میں نے حضور سے کروالی۔حضور نے یہ دیکھ کر فرمایا، "اے عائشہ! کیا میری دعانے تمہیں بہت خوش کیا ہے ؟" میں نے عرض کیا یارسول اللہ لی یا تم ! یہ ہے ہی خوش ہونے کی بات ! اتنی بڑی دعا آپ نے میرے لئے کر دی ہے۔آپ نے فرمایا " عائشہ ! یہ دعا میں ہر روز اپنی امت کے لئے کرتا ہوں " حضرت عائشہ کے فضائل اور رسول اللہ صلی علی کریم کا ان سے تعلق محبت آنحضرت علی ایم کے ساتھ حضرت عائشہ کی محبت کا یہی عالم تھا۔ایک دفعہ حضور سے پوچھنے لگیں، کہ مجھے کسی مثال سے سمجھائیں کہ آپ کی محبت میرے ساتھ کیسی ہے؟ فرمایا! عائشہ ! تمہارے ساتھ میری محبت رتی کی پختہ گرہ کی طرح ہے۔حضرت عائشہ نے پوچھا کہ یارسول اللہ علیکم ! وہ گرہ کیسی ہے ؟ فرمایاوہ گرہ بڑی مضبوط اور پختہ ہے۔اس میں مرور زمانہ سے کوئی فرق نہیں آیا۔اور واقعی آنحضرت طلی یا تم نے حضرت عائشہ کے ساتھ اسی طرح ایک پختہ گرہ کی طرح عمر بھر وہ تعلق نبھایا ہے۔44 ایک دفعہ نبی کریم عطیہ کیا کہ تم نے فرمایا کہ میں نے عائشہ کو جنت میں دیکھا اور وہ نظارہ مجھے خوب یاد ہے۔عائشہ کی ہتھیلیوں کی سفیدی مجھے اب بھی نظر آرہی ہے۔اس کشفی نظارہ میں یہ اشارہ تھا کہ حضرت عائشہ کو جنت میں بھی آپ کی معیت نصیب ہو گی۔ایک دفعہ آنحضرت سے پوچھا گیا کہ آپ کو لوگوں میں سے سب سے پیارا اور عزیز کون ہے آپ نے فرمایا ابو بکر، پوچھا گیا ان کے بعد کون؟ فرمایا کہ ابو بکر کی بیٹی۔ایک اور موقع پر بعض ازواج نے آنحضرت لیلی لی کہ تم حضرت عائشہ کے بارے میں سوال کیا کہ حضور ” جس طرح محبت و شفقت کا تعلق حضرت عائشہ سے رکھتے ہیں۔ایسا ہی سلوک ہمارے ساتھ بھی ہونا چاہئے۔آنحضرت نے فرمایا کہ مجھے وحی حضرت عائشہ کے بستر میں ہو جاتی ہے۔اس میں دراصل پیغام تھا کہ حضرت عائشہ کی نیکی و تقوی، ذہانت و فطانت اور خدمات کی وجہ