اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page v
اہل بیت رسول پیش لفظ بنیں بلکہ ہمیشہ آپ کی محدد معاون رہیں کیونکہ رسول اللہ میم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق انہیں خوب متنبہ فرما دیا تھا کہ "اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مالی فائدہ پہنچاؤں اور عمدگی کے ساتھ تمہیں رخصت کروں اور اگر تم اللہ کو چاہتی ہو اور اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو تو یقیناً اللہ نے تم میں سے حسن عمل کرنے والیوں کے لئے بہت بڑا اجر تیار کیا ہے۔" (الاحزاب : 29تا31) پھر تمام ازواج نے دنیا کو لات مار کر ہمیشہ کے لئے خدا اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کر لیا اور بلند دینی وروحانی مقام کی وارث ٹھہر ہیں۔اہل بیت سے مراد سورۃ احزاب میں اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی یتیم کی ازواج کو خطاب کرتے ہوئے اہل بیت کے لقب سے یاد فرمایا ہے۔(الاحزاب : 34) بیوی یاز وجہ کیلئے یہی عربی اور قرآنی محاورہ ہے۔چنانچہ سورۃ ہود میں حضرت ابراہیم کے پاس بڑھاپے کی عمر میں اولاد کی خوشخبری لانیوالے فرشتوں کے بیان میں ہے کہ حضرت ابراہیم کی عمر رسیدہ بیوی نے اس خوشخبری پر تعجب کیا۔فرشتوں نے حضرت ابراہیم کی اس زوجہ کو مخاطب کر کے کہا۔اے اہل بیت ! کیا اللہ کے فیصلہ پر آپ تعجب کرتی ہیں۔اللہ کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر ہوں۔(ہود:74) گویا قرآنی محاورہ کے مطابق اہل بیت کا خطاب اوّل طور پر ازواج مطہرات کے لئے ہی ہوتا ہے۔تاہم وسعت دے کر اس میں اولاد کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے جیسا کہ سورۃ احزاب کی آیت 34 کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم نے حضرت فاطمہ ، حضرت علیؓ اور حضرت حسنؓ، حسین کو اپنی چادر میں لیکر فرمایا کہ اے اللہ ! یہ (بھی) میرے اہل بیت ہیں۔(مسلم کتاب فضائل الصحابہ باب فضائل اہل بیت النبی) گویا آپ نے ازواج کے علاوہ اولاد کیلئے بھی اللہ تعالی سے وہی برکات طلب کیں جو آپ کو عطا ہوئیں۔زیر نظر کتاب میں ازواج مطہرات کے ذکر خیر کے ساتھ حضرت خدیجہ کے بطن سے ہونے والی رسول اللہ صلی علی کی کمی کی چاروں صاحبزادیوں کا ذکر بھی اہل بیت میں شامل کر دیا گیا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ائمہ اثناعشر کے نزدیک بھی رسول اللہ صلی یا تم ان سب) بیٹیوں کے باپ تھے۔فروع الکافی لابی جعفر جلد 6 ص 6، 7 بیروت)