اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 311 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 311

اولاد النبی 311 حضرت امام حسن کی تلواروں سے اہل شام کے خلاف خون ٹپک رہا تھا۔جب حضرت حسن کی مصالحت کا پیغام ہمیں پہنچا تو غم واندوہ سے ہماری کمریں جیسے ٹوٹ گئیں۔پھر حضرت امام حسن واپس کو فہ آئے تو ہمارا ایک معمر شخص ابو عامر سفیان بن لیلی آپ سے یوں مخاطب ہوا السلام علیک اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے ! آپ نے کہا اے ابو عامر ! ایسا مت کہو میں نے مومنوں کو ذلیل نہیں کیا بلکہ میں نے اس بات کو نا پسند کیا کہ میں انہیں حصول اقتدار و حکومت کی خاطر قتل کروادوں۔55 دنیا سے بے رغبتی علامہ ابن عبد البر لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یا تم نے جسے سردار کا خطاب دیا ہو اس سے بڑا سر دار کون ہو سکتا ہے اور حضرت حسن نہایت حلیم الطبع، خدا ترس، عالم و فاضل تھے۔ان کے تقویٰ وفضیلت کی یہی شان کافی ہے کہ انہوں نے خدا تعالی کی خاطر حکومت اور دنیا کو چھوڑ دیا۔آپ ایک درویش منش اور دنیا سے بے رغبت انسان تھے۔فرماتے تھے کہ جب سے مجھے اپنے نفع و نقصان کا شعور پیدا ہوا ہے میں نے کبھی پسند نہیں کیا کہ امت محمدیہ کی حکومت مجھے سونپی جائے اور اس کے عوض معمولی خون بھی ہے۔ایک دفعہ حضرت امیر معاویہؓ نے مدینہ میں کسی شخص سے پوچھا کہ مجھے حسن بن علی کے بارہ میں کچھ بتاؤ۔انہوں نے کہا اے امیر المؤمنین ! وہ فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھے ذکر الہی کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے پھر اپنی پشت کا سہارا لے کر بیٹھ جاتے اور رسول اللہ صلی یا یتیم کی مسجد میں کوئی شخص جسے کوئی بزرگی حاصل ہے، باقی نہیں رہتا مگر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور آپ ان سے باتیں کرتے ہیں پھر آپ وہاں سے اٹھتے ہیں۔رسول اللہ علی مریم کا ارشاد ہے کہ "جس نے حسن سے بغض کیا اس نے مجھ سے بغض کیا " اس دنیا میں اس طرح بھی پورا ہوا۔اس حوالہ سے یہ روایت بھی قابل توجہ ہے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے اپنی لونڈی کو حضرت حسن کے پاس کسی کام کی غرض سے بھیجا۔وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ کو وضو کرتے دیکھا جب وہ وضو سے فارغ ہوئے تو انہوں نے کپڑے کے ٹکڑے سے گردن کو پونچھا جو مجھے اچھانہ لگا اور میرے دل میں ان کے بارہ میں کچھ کدورت پیدا ہوئی۔اس کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میر ا جگر پھٹ گیا ہے۔58 56