اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 289 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 289

اولاد النبی 289 حضرت فاطمہ بنت محمد پھر جب آنحضور طی یکم کی تدفین مکمل ہو چکی تو حضرت فاطمہ نے حضرت انس خادم رسول سے فرمایا۔اے انس ! تم لوگوں نے رسول اللہ صلی نیلم کے اوپر مٹی ڈالنے کو کیسے گوارا کر لیا۔حضرت فاطمہ نے اپنے مقدس باپ کی وفات پر غمناک دل اور آنکھوں سے رواں آنسوؤں کے ساتھ جو مرثیہ کہا اس کا ایک لاجواب شعر ہے۔آپ فرماتی ہیں:۔صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبَ لَوْ أَثْهَا صبتُ عَلَى الْأَيَّامِ عُدْنَ لَيَالِيَا یعنی مجھ پر ایسے مصائب ٹوٹ پڑے کہ اگر دنوں پر پڑتے تو انکور اتوں میں بدل دیتے۔36 حضور ملی ایم کے وصال کے بعد جب خلافت راشدہ کا خدائی وعدہ پورا ہوا تو قیام خلافت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام خوف دور کر دیئے۔خلافت کو بتدریج استحکام نصیب ہوا۔حضرت ابو بکر نے پہلا نہایت پر حکمت قدم یہ اٹھایا کہ قوم کی شیرازہ بندی کی۔مسئلہ میراث مدینہ سے دودن کے فاصلہ پر فدک نام سے کھجوروں وغیرہ کے باغات پر مشتمل سر سبز علاقہ تھا۔جہاں یہودی آباد تھے۔یہودِ خیبر کی شکست کے بعد انہوں نے بھی آنحضور سے صلح کر کے فدک کے تمام باغات اور اموال کا نصف آپ کو دے دیا تھا۔جو بغیر جنگ کے حاصل ہونے کے باعث مال فئے یعنی رسول اللہ لی لی کہ تم کے خالص تصرف میں تھا۔جسے آپ اپنے اقارب، یتامی، مساکین اور مسافروں وغیرہ کے لیے خرچ کرنے کا مکمل اختیار رکھتے تھے۔(الحشر: 7,8) چنانچہ رسول اللہ صلی علی نام یہ اموال اس اختیار کے مطابق اپنے اہل و عیال پر بھی خرچ کرتے رہے۔اس لیے آپ کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ کو طبعا خیال ہوا کہ شاید یہ اموال آپ کی اولاد کے قبضہ و تصرف میں آئیں گے۔مگر حضرت ابو بکر خلیفہ راشد نے وضاحت فرما دی کہ یہ قومی اموال رسول اللہ کے خلفاء کے قبضہ اور تصرف میں رہیں گے اور آلِ رسول طلعلیم کے اخراجات حسب سابق اس سے پورے کیے جاتے رہیں گے۔چنانچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علی سلیم کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ نے حضرت ابو بکر صدیق سے درخواست کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ترکہ میں سے جو اللہ تعالی نے آپ کو بطور فئے عنایت فرمایا تھا اس میں ان کا حصہ میراث ان کے سپرد ہو تو حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ رسول