اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 285 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 285

اولاد النبی 285 حضرت فاطمہ بنت محمد حضرت فاطمہ کی بہن حضرت رقیہ کی وفات پر رسول کریم ملی تم اپنی صاحبزادی فاطمہ کو لے کر ان کی قبر پر آئے تو فاطمہ قبر کے پاس رسول کریم ملی ایم کے پہلو میں بیٹھ کر رونے لگیں۔رسول اللہ صلیم دلاسا دیتے ہوئے اپنے دامن سے ان کے آنسو پونچھتے جاتے تھے۔0 اولاد سے مشفقانہ اور عادلانہ سلوک 22 21 رسول اللہ صلی یا تم کا سلوک اپنی اولاد سے مشفقانہ ہونے کے ساتھ عادلانہ بھی تھا۔آپ نے اپنے تمام اعزہ و اقارب کو اور خاص طور پر اپنی بیٹی فاطمہ کو کھول کر سنا دیا تھا کہ اللہ کے مقابل پر میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔تمہارے عمل ہی کام آئیں گے۔فتح مکہ کے سفر کا واقعہ ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت فاطمہ نامی نے کچھ زیورات چرا لئے۔اسلامی تعلیم کے مطابق چور کی سزا اس کے ہاتھ کاٹنا ہے۔وہ عورت چونکہ معزز قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی اس لئے اس کے خاندان کو فکر ہوئی اور انہوں نے رسول اللہ صلی علی کی یتیم کے بہت پیارے اور عزیز ترین فرد اسامہ بن زید سے حضور کی خدمت میں سفارش کروائی کہ اس عورت کو معاف کر دیا جائے۔اسامہ نے جب رسول اللہ مع سلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ کے چہرہ کا رنگ سرخ ہو گیا اور فرمایا کیا تم اللہ کے حکموں میں سے ایک حکم کے بارہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو ؟ اسامہ نے عرض کیا یارسول اللہ لی تم میرے لئے اللہ تعالی سے بخشش طلب کریں۔اسی شام کو نبی کریم علیم نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا " تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی معزز انسان چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تھا تو اس پر حد قائم کرتے تھے۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا۔مگر جہاں اولاد کے جائز حقوق کا سوال ہوتاوہاں آپ ان کی حمایت بھی فرماتے۔فتح مکہ کے بعد بنو ہاشم نے خیال کیا کہ رسول اللہ لی یتیم کی جسمانی اولاد تو کوئی نہیں اور مردوں حضرت علی ہی بوجہ دامادی آپ کے وارث ہوں گے۔انہوں نے حضرت علی کو ابو جہل کی بیٹی کے رشتہ کی پیشکش کر دی۔دراصل وہ اس سیاسی شادی کے ذریعہ آئندہ حکومت و بادشاہت میں حصہ دار بننے کی کوشش میں