اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 246 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 246

ย حضرت ریحانہ 246 ازواج النبی رسول اللہ علیم نے حضرت ریحانہ سے اس پردہ کا اہتمام کروایا جو ازواج مطہرات کیا کرتی تھیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے انہیں لونڈی کی حیثیت میں قبول نہیں فرمایا تھا، جیسا کہ بعض معترضین کا خیال ہے بلکہ یہ زوجہ رسول اللہ علیم سے انتہائی محبت کی وجہ سے دوسری ازواج سے شدید غیرت رکھتی تھیں۔جن کے ناقابل برداشت ہونے کے باعث رسول اللہ علیہ میں تم کو انہیں طلاق دینی پڑی۔مگر یہ بھی ان سے 30 برداشت نہ ہوا اور وہ اس قدر روئیں کہ رسول اللہ نے ان کے پاس تشریف لے جا کر طلاق واپس لے لی۔الغرض اول تو ابن سعد میں حضرت ریحانہ سے شادی کی ثقہ روایت کی روشنی میں دیگر روایات کے مطالعہ سے سارا معاملہ کھل جاتا ہے کہ خود ان کی روایت کے مطابق آنحضرت سے ان کی شادی ہوئی، ان کا حق مہر باقی ازواج کے برابر بارہ 12 اوقیہ رکھا گیا، انہیں اس طرح پردہ کروایا گیا جس طرح ازواج مطہرات پر دہ کرتی تھیں۔پھر دیگر روایات کے مطابق ایک مرحلہ پر انکی طلاق کی نوبت بھی آئی مگر ان کی درخواست پر رسول اللہ علیم نے رجوع کر لیا، اسی طرح باقی ازواج کی طرح انکی بھی باری مقرر کی گئی تھی۔جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں ایسی کوئی تحقیق تو نہیں مل سکی جس سے اس موضوع پر تفصیلی روشنی پڑتی 31 ہو، البتہ عمومی رنگ میں جماعت کے علمی طبقہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی محققانہ ترجیحی رائے کی 32 روشنی میں اسی رائے کو قبول کیا جاتا رہا ہے کہ حضرت ریحانہ لونڈی نہیں تھیں بلکہ منکوحہ بیوی تھیں۔اس مؤقف کے نتیجہ میں بہر حال رسول اللہ کی ذات پر ایک بودے اور ناپاک اعتراض کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔دورِ حاضر کے دیگر محقق مصنفین میں ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری صاحب نے بھی اپنی کتاب " ازواج 33 مطہرات " میں حضرت ریحانہ کو ازواج النبی میں شامل کیا ہے۔0 وفات حضرت ریحانہ کی وفات 10ھ میں رسول اللہ علیم کی زندگی میں آپ کے حجتہ الوداع سے تشریف لانے کے بعد ہوئی۔ان کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔34 اللهمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيْدٌ **** **** ****