اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 235 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 235

ازواج النبی 235 ย حضرت میمونه سے علم اور دین کی باتیں سیکھنے کا تھا۔اور پھر وہی باتیں آگے انہوں نے سکھائیں۔ایک دفعہ آپ نے اپنے بھتیجے عبدالرحمن بن سائب کو بتایا کہ میں نے آنحضرت علی یا تم سے بیمار کے لئے ایک دم سیکھا تھا۔وہ دعا تم بھی مجھ سے سیکھ لو اور وہ یہ دعا تھی:۔بِسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ وَاللهُ يَشْفِيْكَ مِنْ كُلِ دَاءٍ فِيْكَ اذْهَبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافي إِلَّا أَنْتَ 23 یعنی میں اللہ کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتا ہوں اور اللہ آپ کو شفاء دے گا ہر ایک بیماری سے جو تجھ میں پائی جاتی ہے۔اے انسانوں کے رب اس بیماری کو دور کر دے اور شفا عطا فرما کہ تو ہی حقیقی شفا دینے والا ہے۔تیرے سوا اور کوئی شفاء دینے والا نہیں۔ایسی ہی پاکیزہ دینی باتیں ازواج مطہرات نے آنحضرت علی کریم کے فیض صحبت سے سیکھیں اور آگے ایک دنیا کو سیکھائیں۔حضرت عبد اللہ بن عباس کے نزدیک آپ نے آنحضور ملی یا ہم سے چھیالیس 46 احادیث روایت کی ہیں۔جبکہ بعد کی کتب میں یہ تعداد چھتر 76 بھی بیان ہوئی ہے۔24 رسول الله علی تم سے سچا عشق حضرت میمونہ کی اس آخری خواہش سے جہاں رسول اللہ علی کریم سے ان کے بچے عشق کا پتہ چلتا ہے، وہاں مستشرقین کا وہ اعتراض بھی باطل ہو جاتا ہے کہ معاذ اللہ آپ نے شوقیہ شادیاں کیں۔سید نا حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں :۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کی کئی بیویاں تھیں اور یہ کہ آپ کا یہ فعل نعوذ باللہ من ذالک عیاشی پر مبنی تھا۔مگر جب ہم اس تعلق کو دیکھتے ہیں جو آپ کی بیویوں کو آپ کے ساتھ تھا تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ آپ کا تعلق ایسا پاکیزہ ، ایسا بے لوث اور ایسا روحانی تھا کہ کسی ایک بیوی والے مرد کا تعلق بھی اپنی بیوی سے ایسا نہیں ہوتا۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اپنی بیویوں سے عیاشی کا ہوتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہئے تھا کہ آپ کی بیویوں کے دل کسی روحانی جذبہ سے متاثر نہ ہوتے۔مگر آپ کی بیویوں کے دل میں آپ کی جو محبت تھی اور آپ سے جو نیک اثر انہوں نے لیا تھا وہ بہت سے ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں کے متعلق تاریخ سے ثابت ہیں۔مثلاً یہی واقعہ کتنا