اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 231 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 231

ازواج النبی 231 رض حضرت میمونه carrying Meimuna with him, reached the same place, and there the marriage was consummated۔Early next morning the march resumed, and the cortege returned to Medina۔یعنی جب عمرہ کے تین دن ختم ہوئے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) چوتھے دن میں داخل ہو گئے تو قریش کے سردار سہیل اور حویط ب آپ کے پاس آئے اور حسب معاہدہ فوراً مکہ سے چلے جانے کو کہا اس پر آپ نے ان سے درخواست کی کہ وہ آپ کو اپنی شادی وغیرہ کی تقریب منانے کی اجازت دیں اور ان کے ساتھ ضیافت میں شریک ہوں۔ان سرداروں نے اس دعوت کو سختی سے رڈ کرتے ہوئے فوراً چلے جانے کو کہا۔چنانچہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی زوجہ کو اپنے ایک خادم ابو رافع کے سپر د کیا اور تمام صحابہ کو مکہ سے فور کوچ کا حکم دیا۔آپ نے سرف مقام پر پہنچ کر پڑاؤ کیا، جو 8 یا 10 میل کے فاصلہ پر تھا۔شام کو ابورافع بھی حضرت میمونہ کو لے کر اسی مقام پر پہنچ گئے۔اور وہاں شادی کی تقریب ہوئی جہاں سے اگلے دن وہ مدینہ روانہ ہو گئے۔تقوی شعاری حضرت میمونہ کے ایک بھانجے یزید بن الا صم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ مکہ سے تشریف لائیں اور ہم ان کا استقبال کرنے کیلئے گئے۔راستے میں کسی باغ سے ہم نے کچھ پھل وغیرہ توڑ لئے۔حضرت عائشہ کو پتہ لگا تو اپنے بھانجے طلحہ بن عبید اللہ کے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے ساتھ مجھے بھی مخاطب کر کے فرمانے لگیں کہ دیکھو ! آپ لوگوں کا ایک تعلق رسول اللہ علیم اور اہل بیت کے ساتھ ہے یعنی رسول الله علی کریم کی بیوی کے تم بھانجے ہو جس کا لحاظ تمہاری ذمہ داری ہے۔حضرت میمونہ تو اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئیں تمہیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ حضرت میمونہ بہت ہی تقویٰ شعار اور انتہائی صلہ رحمی کرنے والی تھیں۔اپنی سوت کے بارہ میں حضرت عائشہ کی یہ گواہی کیسی عظیم الشان ہے۔جو حضرت میمونہ کے ساتھ ساتھ حضرت عائشہ کی عظمت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔حضرت میمونہ حضرت عبد اللہ بن عباس کی خالہ تھیں۔آپ کا ان کے ساتھ سلوک بھی محبت اور صلہ رحمی کا تھا۔انہوں نے اپنی بعض روایات میں ذکر کیا ہے کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ کے ہاں رات بسر کی اور اس دوران حضور کی نماز تہجد کا طریق بھی دیکھا۔0