اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 232
ازواج النبی 232 حضرت میمونه ย ازواج کی غیرت اور رسول اللہ علیم کا علم و کرم حضرت میمونہ کی روایات سے نبی کریم ملی یم کے ازواج سے حسن سلوک کا بھی ذکر ملتا ہے۔مثلاً مدینہ کے یہودی عورتوں کے مخصوص ایام میں ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا ترک کر دیتے تھے اور ان سے اچھوتوں جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔حضرت میمونہ بیان فرماتی ہیں کہ آنحضرت طلی تیم اس زمانہ کے طرز معاشرت کے بر عکس ایام حیض میں بھی ہمارے ساتھ معمول کا برتاؤ کیا کرتے تھے سوائے اس کے جس سے اللہ تعالی نے روکا ہے یعنی آپ ازدواجی تعلقات قائم نہیں کرتے تھے۔اس کے علاوہ حضور می یار تم ان ایام میں ہمارے ساتھ بستر پر لیٹ بھی جاتے ، نماز پڑھتے ہوئے آنحضرت تعلیم کے کپڑے ہمارے کپڑوں کو بھی چھو جاتے۔ہم حضور ملی ایم کے سامنے مسجد میں جا کر آپ کا مصلے وغیرہ بچھا دیا کرتی تھیں اور حضور صلی علی کریم اس حال میں کہ ہم میں سے کوئی ایام مخصوصہ میں ہو اس کی گود میں سر رکھ دیتے اور قرآن شریف کی تلاوت 14 فرماتے رہتے۔ازواج کی باہم غیرت کے جوش کے وقت بھی رسول اللہ علیہ یا ریلی کا ان سے نرمی اور شفقت کا معاملہ ایسا بے نظیر تھا جس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی۔رسول اللہ علیم کے صبر و تحمل کا ایک ایسا ہی واقعہ خود حضرت میمونہ یوں بیان فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول کریم ملتی ہی کی میرے ہاں باری تھی۔آپ کہیں باہر تشریف لے گئے۔مجھے پتہ چلا تو میں نے اندر سے دروازہ بند کر دیا۔آپ نے واپس آکر دروازہ کھٹکھٹایا۔میں نے کھولنے سے انکار کر دیا۔آپ نے فرمایا تمہیں قسم ہے کہ تم ضرور دروازہ کھولو گی۔میں نے کہا آپ میری باری میں کسی اور بیوی کے ہاں کیوں گئے تھے ؟ آپ نے فرمایا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔میں تو پیشاب کی 15 حاجت سے باہر نکلا تھا۔حضرت میمونہ نے اپنا یہ واقعہ بھی بیان فرمایا کہ میں نے ایک دفعہ اپنی ایک لونڈی آزاد کر دی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے ہاں آئی تو میں نے خوش ہو کر بتایا یار سول اللہ مسلم ! آپ کو پتہ ہے کہ میں نے اپنی فلاں لونڈی بطور صدقہ آزاد کر دی ہے۔حضور علی کریم نے فرمایا کہ اگر تم مجھ سے پوچھ لیتی تو میں تمہیں مشورہ دیتا کہ وہ لونڈی اپنے ننھیال کو دے دو اس سے تمہیں دہرا اجر ہوتا۔ایک صدقہ کا دوسرے صلہ رحمی کا۔