اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 228 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 228

ازواج النبی 228 حضرت میمونه رض حضرت خالد بن ولید کی والدہ تھیں۔تیسری بہن عصماء بنت حارث مشرک سر دارابی بن خلف کے نکاح میں اور چوتھی بہن عزہ بنت حارث زیاد بن عبداللہ الہلالی کے عقد میں تھیں۔ان چار حقیقی بہنوں کے علاوہ والدہ کی طرف سے چار بہنیں اور تھیں۔ان میں سے ایک ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ تھیں جو رسول ย رض 5 اللہ صلی ی ی ی یتیم کے عقد میں آئیں ، دوسری بہن حضرت اسماء بنت عمیں حضرت جعفر طیار بن ابی طالب کے عقد میں تھیں، ان کی شہادت کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کی زوجیت میں آئیں اور ان کی وفات کے بعد حضرت علیؓ سے ان کی شادی ہوئی۔تیسری بہن سلمی بنت عمیس رسول اللہ لی لی ایم کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب کی زوجہ تھیں حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد حضرت شداد بن اسامہ سے ان کی شادی ہوئی۔اور چوتھی بہن سلامہ بنت عمیں عبد اللہ بن کعب قسمی کے عقد میں تھیں۔حضرت میمونہ کی شادی زمانہ جاہلیت میں مسعود بن عمرو بن عمیر سے ہوئی تھی۔ان سے طلاق کے بعد آپ ابور ہم بن عبد العزیٰ کے عقد میں آئیں۔پھر ان سے بھی علیحدگی کی نوبت آئی۔7ھ میں آنحضرت علی ایم کے ساتھ ان کا نکاح ہوا۔ان سب رشتوں کے حوالے سے اس زمانے میں ام المؤمنین حضرت میمونہ کی والدہ ہند بنت عوف کے متعلق قریش مکہ میں یہ بات بجاطور پر زبان زد عام تھی کہ روئے زمین پر ان سے بڑھ کر اور کوئی عورت ایسی قابل احترام نہیں کہ جس کے ایسے عظیم الشان داماد ہوں یعنی ان کے ایک داماد آنحضرت، دوسرے حضرت ابو بکر صدیق ، دود اما در سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ اور حضرت عباس اور د و د اما در سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد حضرت جعفر اور حضرت علیؓ تھے۔بلاشبہ یہ ایک منفرد اعزاز ہے جو حضرت میمونہ کے خاندان کو عطا ہوا۔رض رسول اللہ سلام سے شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ کی شادی کا واقعہ عمرۃ القضاء 7 ھ کے بعد کا ہے اور یہ شادی حضور علی کریم کی آخری شادیوں میں سے تھی۔بعض روایات کے مطابق حضرت میمونہ نے اپنے آپ کو آنحضور علی نیم کی خدمت میں بطور ہبہ پیش کیا تھا جس کی اجازت قرآن کریم کی اس آیت میں ہے:۔وَامْرَأَةٌ مُؤْمِنَةٌ إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِي اِنْ اَرَادَ النَّبِيُّ اَنْ يَسْتَنْكِحَهَا ( الاحزاب : 51) اگر کوئی عورت اپنا نفس نبی کو ہبہ کرنا چاہے تو وہ ایسا کر سکتی ہے بشر طیکہ نبی بھی اس سے نکاح کا خواہاں ہو۔