اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 229
ازواج النبی 229 رض حضرت میمونه دیگر روایات کے مطابق اس نکاح کی تفصیل یوں مذکور ہے کہ آنحضور میں اہم معاہدہ حدیبیہ کے مطابق عمرۃ القضاء کے لئے جب ذوالقعدہ 7ھ میں مکہ تشریف لائے۔اسی زمانے میں حضرت جعفر بن ابی طالب کی بھی ہجرت حبشہ سے واپسی ہوئی تھی جن کی بیوی حضرت اسماء حضرت میمونہ کی بہن تھیں۔حضور نے یہ دیکھا کہ میمونہ جیسی معزز مسلمان خاتون ابھی تک مکہ میں خاوند سے علیحدگی کے بعد اکیلی رہ گئی ہیں آپ نے حضرت جعفر سے مشورہ کیا کہ اگر میمونہ پسند کریں تو آنحضور طی کنیم ان سے عقد کر لیں۔حضرت جعفر نے اپنے چا اور ہم زلف حضرت عباس سے اس کا ذکر کیا اور اسی موقع پر آنحضرت طی تم سے حضرت میمونہ کا نکاح ہو گیا۔ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت لی لی ہم نے حضرت میمونہ کو شادی کا پیغام بھجوایا تو انہوں نے اپنی بڑی بہن، رسول اللہ لی لی لی کی چی ام الفضل زوجہ حضرت عباس سے کہا کہ وہ جو چاہیں فیصلہ کریں۔حضرت ام الفضل نے حضرت عباس کو اختیار دے دیا اور انہوں نے آنحضرت علی علیم کے ساتھ حضرت میمونہ کا چار صد در هم حق مہر پر مکہ میں نکاح کیا۔رخصتی اور ولیمہ حرم سے باہر مکہ سے دس 10 میل کی مسافت پر (7) 8 11 "سرف " مقام پر ہوا۔بعض روایات سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ آنحضرت علی علی کی نیلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ سے نکاح کیا تھا ، جو درست نہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ حضور علی لیا کہ کم عمرہ کے بعد احرام کھول چکے تھے جبکہ بعض لوگوں نے ابھی احرام نہیں کھولے تھے۔چونکہ اس دوران نکاح ہوا اس لئے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید مُحرم ہونے کی حالت میں حضور نے نکاح کیا ہے چنانچہ حضرت میمونہ کی اپنی روایت ہے کہ آنحضرت سے جب میرا انکاح ہوا تو حضور اس وقت حالت احرام میں نہیں تھے " اسی طرح حضور علیم کے آزاد کردہ غلام ابورافع جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت میمونہ کے درمیان اس عرصے میں انتظامات شادی کے سلسلہ میں پیغام رسانی کا بھی موقع ملا، وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور ملی یا کلام اور حضرت میمونہ کا جب نکاح ہوا اس وقت آپ حالت احرام میں نہیں تھے " رسول اللہ صلی علیہ السلام کا ایفائے عہد آنحضرت علی تم نے معاہدہ حدیبیہ کے مطابق عمرہ کے لئے مکہ میں صرف تین روز قیام کرنا تھا۔عمرہ