اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 208
ازواج النبی 208 حضرت ماریہ اور مسلمان ہو جانے سے اللہ تعالیٰ تمہیں دوہرا اجر عطا کریگا۔اگر تم نے اعراض کیا تو اہل مصر کا گناہ بھی تم پر (3) 11/ ہو گا " ایسا ہی خط رسول اللہ نے کسری شاہ ایران کو بھی بھیجا تھا۔مگر اس نے رسول الله علی علیم کا خط چاک کر دیا تھا اور رسول اللہ لی تم نے اسکی حکومت ٹوٹ جانے کی پیشگوئی فرمائی تھی۔مگر شاہِ مصر کارڈ عمل شاہ ایران سے یکسر مختلف تھا۔شاہ مصر مقوقس نے آپ کے مکتوب مبارک کو سینہ سے لگایا اور کہا کہ اس زمانہ میں ایک نبی نے ظاہر ہونا تھا جس کا ذکر ہم اللہ کی کتاب میں پاتے ہیں مگر میراخیال تھا کہ وہ شام سے ظاہر ہو گا۔پھر اس نے مکتوب نبوی کا احترام کرتے ہوئے ہاتھی دانت کی ڈبیہ میں رکھ کر اسے محفوظ کروایا۔رسول اللہ میم کا خط پڑھ کر اور آپ کے قاصد حاطب بن ابی بلتعہ کی تبلیغ سن کر وہ حقیقت کو پہچان گیا تھا۔اور آپ کے قاصد سے کہا کہ تم ایک دانا انسان ہو ، جو ایک دانا شخص کے سفیر بن کر آئے ہو۔میں نے ان کی تعلیم میں اعتدال پایا ہے وہ ہر گز گمراہ جادو گریا کا ہن نہیں۔اور میں اس معاملہ میں مزید غور کروں گا۔4 اس نے اس آنے والے نبی کی ایک خاص نشانی کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اسکی علامتوں میں ہم یہ بھی پاتے ہیں کہ وہ دو بہنوں کو اپنے حرم میں ) اکٹھا نہیں کرے گا۔پھر اس نے اپنے جوابی خط میں رسول اللہ صلی علیم کی خدمت میں یہ بھی لکھا کہ میں آپ کے سفیر کے ساتھ عزت سے پیش آیا ہوں اور اس کے ساتھ دو لڑکیاں (بہنیں) بھجوا رہا ہوں۔جنہیں قبطی قوم میں بڑا درجہ حاصل ہے۔یہ دونوں لڑکیاں آپس میں بہنیں تھیں، بعید نہیں کہ ان بہنوں کے حضور کی خدمت میں بھجوانے کی ایک غرض مذکورہ علامت نبوت کی جانچ بھی ہو۔پس شاہِ مصرا گرچہ اپنی حکومت کے چھن جانے کے ڈر سے اسلام تو قبول نہ کر سکا۔مگر اس نے رسول اللہ صلی علیم کی شان و عظمت محسوس کر کے آپ سے سفارتی تعلقات استوار کرنے ضروری سمجھے اور آپ کی خدمت میں تحائف بھی بھجوائے۔جن میں کچھ پارچات ، زیور اور ایک سلیٹی رنگ کا خچر دلدل نامی بھی شامل تھا۔مزید برآں اپنے خاندان کی دو معزز لڑ کیاں بغرض رشتہ بھجوانا اس زمانہ کے دستور کے مطابق تعلقات مضبوط کرنے کی خاطر بھی تھا۔لڑکیوں کے ساتھ ان کے عمر رسیدہ بھائی یا چچازاد ما بور نامی بھی تھے ، جنہوں نے مدینہ آکر اسلام قبول کر لیا۔بعض روایات کے مطابق یہ لڑکیاں (جو پہلے عیسائی تھیں ) دوران سفر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی تبلیغ اور نمونہ سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئی تھیں۔