اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 196
ازواج النبی محبت الہی 196 حضرت صفیہ حضرت صفیہ کی عبادت اور ذکر الہی کے بارے میں یہ واقعہ قابل ذکر ہے۔جو دراصل آنحضرت ملی می کنیم کے فیض صحبت کا کرشمہ ہے۔آپ نے اپنی ازواج کے دل میں خدا تعالی کی محبت، عبادت اور ذکر الہی سے گہرا تعلق پیدا کر دیا تھا۔حالانکہ وہ مختلف قبائل اور مذاہب کے کو چھوڑ کر آئی تھیں کوئی عیسائیوں سے تو کوئی یہود سے۔مگر وہ آپ کی محبت میں آکر آپ کے رنگ میں رنگین ہو گئیں۔حضرت صفیہ کے آزاد کردہ غلام کنانہ کا بیان ہے کہ حضرت صفیہ فرماتی تھیں " ایک دفعہ حضور علی علیکم میرے پاس تشریف لائے میں نے کھجور کی چار ہزار گٹھلیاں اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں۔ان پر میں تسبیح کیا کرتی تھی۔" حضور نے پوچھا یہ کس مقصد کے لئے ہیں۔" عرض کیا " حضور می یلم میں ان کو گن گن کر ان پر اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرتی ہوں " آپ نے فرمایا کیا میں تم کو اس سے بہتر طریقہ نہ بتاؤں ؟" پھر حضور علی علی کریم نے ان کو سمجھایا کہ بجائے یوں گن گن کر تسبیح کرنے کے یہ پڑھا کرو۔سُبحان اللهِ عَدَدَ خَلْقِهِ کہ اللہ تعالی پاک ہے اور اس کی سبو حیت اور اس کی پاکیزگی میں اتنا بیان کرتی ہوں جتنی خدا تعالیٰ کی مخلوق ہے۔یہ ذکر الہی کے وہ لطیف اور اچھوتے اسلوب تھے جو آنحضرت علی علیم اپنی ازواج کو سمجھایا کرتے تھے۔حضور علیہم کی اس تربیت اور فیض صحبت کے نتیجے میں ان کی بھی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ ذکر الٹی میں دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں آگے بڑھنے والی اور ترقی کرنے والی ہوں۔37 اسی طرح کا واقعہ حضرت جویریہ بنت حارث کے بارہ میں بھی آتا ہے جو مشرکوں میں سے اسلام میں آئیں اور رسول اللہ صلی علیل تمیم نے ان کو بھی ذکر الہی کرتے دیکھا تو یہ جامع اور بابرکت دعا سکھائی۔محبت رسول 38 حضرت صفیہ کو حضور طی یتیم کے ساتھ جو محبت تھی اس کا ایک اندازہ آنحضرت مریم کی آخری بیماری میں ہوا۔ازواج مطہرات آنحضور طی یک نیم کے پاس بیٹھی حضور کی تیمار داری اور عیادت میں مصروف تھیں۔اس دوران حضرت صفیہ نے بے اختیار کہا " اے اللہ کے نبی ! میرا دل کرتا ہے کہ آپ کی یہ بیماری مجھے مل جائے۔اور آپ کو اللہ تعالیٰ شفاء دے "۔حضرت صفیہ کی یہ بات سن کر بعض ازواج نے ایک دوسرے کو