اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 185 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 185

ازواج النبی 185 حضرت صفیہ والدہ کا نام بڑہ بنت شموئیل تھا۔آپ کا نسب حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے لاوی اور حضرت موسیٰ“ کے بھائی ہارون علیہ السلام کی اولاد سے جاملتا ہے۔2 رسول اللہ علیم کے حرم میں آنے کے بعد آپ صفیہ کے نام سے موسوم ہوئیں۔صفی کے ایک لغوی معنے مالِ غنیمت کے اس حصہ کے ہیں جو رئیس اپنے لیے مخصوص کر لے۔اسی بناء پر مال غنیمت میں رسول اللہ کے حصہ کو "الصفی " کہا جاتا تھا۔حضرت عائشہ حضرت صفیہ کو اسی لحاظ سے صفی قرار دیتی تھیں۔3 صفیہ کے دوسرے لغوی معنے خالص، پاک وصاف وجود اور مخلص ساتھی کے ہیں۔ان معنوں کے لحاظ سے بھی بلاشبہ حضرت صفیہ اسم با مسمی بھی تھیں، کیونکہ انہوں نے قبولِ اسلام کے بعد اپنا دل وسینہ پاک وصاف کر کے محبت الہی اور عشق رسول سے لبریز کر لیا تھا۔حضرت صفیہ ایک امیر کبیر یہودی سردار گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں جہاں ان کا شہزادیوں جیسار ہن سہن تھا۔انکی ذاتی ملکیت میں ایک سو کے قریب لونڈیاں تھیں۔جو گھر یلو خدمت پر بھی مامور ہوتی تھیں۔0 آپ کی پہلی شادی اٹھارہ 18 برس کی عمر میں معروف یہودی عرب شاعر سلام بن مشکم القرظی سے ہوئی۔مگر دیر پا ثابت نہ ہو سکی اور سلام انہیں طلاق دے دی۔دوسرا نکاح یہودی سردار اور شاعر کنانہ بن ابی الحقیق سے ہوا۔قدرت اللی کی بھی عجیب شان ہے کہ یہ شادی رسول اللہ علیم کے محاصرہ خیبر کے قریبی زمانہ میں ہوئی۔اور صفیہ ابھی نو بیاہتاد لہن ہی تھیں کہ اس جنگ میں ان کا خاوند کنانہ مارا گیا۔دونوں شادیوں سے کوئی اولاد نہیں تھی۔خیبر فتح ہونے کے بعد وہ اسیر ان جنگ میں شامل ہو کر حضرت بلال کے سپرد ہوئیں ، جب وہ انہیں لیکر یہودی مقتولین کے پاس سے گزرے تو حضرت صفیہ اور ان کی ساتھی قیدی عورت اس وحشت ناک منظر کو دیکھ کر واویلا کرنے لگیں، جس پر رسول اللہ لی ہم نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے حضرت بلال کو فہمائش فرمائی کہ اسیر عورتوں کو ان کے مقتولین کی نعشوں کے پاس سے لیکر نہیں گزرنا چاہیے تھا تا کہ وہ دل آزاری سے بچ جاتیں۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ملی تم کو دشمن اسیر ان کے جذبات کا بھی کتنا خیال تھا۔اس دوران ایک صحابی حضرت دحیہ الکلبی نے آنحضور علم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ خیبر کے جنگی قیدیوں میں سے مجھے بھی ایک لونڈی عطا ہو۔رسول کریم 7