اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 169 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 169

ازواج النبی 169 رض حضرت اُة رض ذمہ داری تھی۔اس نے آکر مجھے یہ پیغام دیا کہ بادشاہ سلامت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ لی تم نے انہیں لکھا ہے کہ وہ آپ کا نکاح حضور کے ساتھ کر دیں۔میرے دل سے پردیس میں یہ خوشخبری لانے والی لونڈی ابرہہ کے لیے دعا نکلی کہ اللہ تعالی تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔ابرہہ نے مزید کہا کہ بادشاہ سلامت نے یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ نکاح کے لئے کسی کو اپنا وکیل مقرر کر دیں۔چنانچہ میں نے اپنے ماموں خالد بن سعید بن العاص کو اس غرض کے لئے وکالت نامہ کا پیغام بھجوایا۔اور خوش ہو کر ابرہہ کو چاندی کے دو کنگن ، دو پازیبیں اور انگوٹھیاں بطور انعام دیں۔اسی شام شاہ حبشہ نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب اور وہاں موجود دیگر مسلمانوں کو جمع کر کے خود رسول اللہ صلی عدالت کا خطبہ نکاح پڑھا۔حمد و ثنا اور تشہد کے بعد انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے مجھے لکھا ہے کہ میں ام حبیبہ بنت ابی سفیان کے نکاح کا اعلان آپ کے ساتھ کر دوں۔اس کی تعمیل کرتے ہوئے ان کا حق مہر میں چار سود بینار ( نقد ) مقرر کرتا ہوں۔پھر بادشاہ نے دیناروں کی تھیلی لوگوں کے سامنے بکھیر کر رکھ دی۔اس پر حضرت ام حبیبہ کے وکیل حضرت خالد بن سعید کھڑے ہوئے ، انہوں نے اس نکاح کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کیلئے یہ رشتہ بہت مبارک فرمائے۔بادشاہ نے حق مہر کی رقم حضرت خالد بن سعید کے سپر د کر دی۔جب لوگ اٹھ کر جانے لگے تو نجاشی شاہ حبشہ نے کہا " انبیاء کی سنت ہے کہ ان کی شادی کے موقع پر کھانا کھلایا جاتا ہے " چنانچہ انہوں نے کھانا منگوایا۔بادشاہ ہو کر رسول اللہ صلی علی کریم کی غلامی کادم بھر نے والے اس وفاشعار صحابی حضرت اصمحہ نجاشی کی دعوتِ طعام میں شامل ہو کر تمام اصحاب خوشی خوشی گھروں کو واپس لوٹے۔حضرت ام حبیبہ مزید بیان فرماتی تھیں کہ جب حق مہر کی رقم مجھے پہنچی تو میں نے بادشاہ کی خادمہ خاص ابرہہ کو بلوا بھیجا اور اُسے کہا کہ جب تم رسول اللہ علیم سے شادی کی خوشخبری لائی تھی تو میرے پاس کوئی مال نہ تھا اس وقت جو میسر تھا وہ تمہیں دے دیا اب پچاس دینار مزید تمہیں بطور انعام دیتی ہوں۔اس پر ابرہہ نے میرے تحفہ میں دیئے ہوئے زیورات کا ڈبہ مجھے واپس کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلامت نے فرمایا ہے کہ کوئی تحفہ لے کر میں آپ کے مال سے ذرا بھی کم نہ کروں، بادشاہ کے لباس کی تیاری اور تیل خوشبو وغیرہ مہیا کرنے کی نگرانی میرا کام ہے۔اور میں رسول کریم ملی یم کا دین قبول کر کے مسلمان ہو چکی ہوں۔اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ بادشاہ نے اپنی بیگمات کو ہدایت کی ہے کہ وہ سب آپ کو اپنی طرف سے خوشبو کے تحائف