اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 89
ازواج النبی 89 حضرت عائشہ انہوں نے آنحضرت لیلی میل کلیم سے ہی سیکھا تھا۔ان کی آخری بیماری میں حضرت عبداللہ بن عباس نے عیادت کے لئے حاضر ہونا چاہا۔حضرت عائشہ کو اجازت دینے میں تامل ہوا کہ وہ آئیں گے تو تعریف کریں گے اور یہ بات آپ کو ناگوار تھی لیکن جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے بلالیا۔حضرت عبد اللہ بن عباس نے آتے ہی آپ کی تسلی اور دلداری کے لئے کچھ باتیں کیں پھر کہنے لگے کہ اب رسول اللہ علیم اور دیگر پیاروں سے ملاقات میں صرف روح اور جسم کی جدائی کا معاملہ ہی باقی رہ گیا ہے۔اور آپ تو رسول اللہ علیم کی سب سے عزیز بیوی تھیں۔اور اس میں کیا شک ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند نہایت اعلیٰ درجے کی تھی اس لئے آپ کے لئے فکر کی کیا بات ہے؟ آپ کہنے لگیں اور کوئی بات؟ حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا اللہ تعالی نے آپ کے ذریعے کتنی برکتیں عطا کیں۔تیمم کا حکم آپ کے بار گم ہونے پر ہمیں عطا ہوا تھا۔پھر اللہ تعالی نے قرآن میں ان کا ذکر کیا اور ان کی برات کے بارے میں سورۃ النور میں کئی آیات اتریں۔یہ تمام باتیں سن کر حضرت عائشہ نے کمال عجز و انکسار سے کہا اے عبداللہ بن عباس ! رہنے بھی دیں ان باتوں کو۔آپ میری پاکیزگی اور نیکی کی یہ باتیں چھوڑیں۔خدا کی قسم میں تو یہ چاہتی ہوں کہ میں بھولی بسری ہو جاتی اور میرا کوئی نام و نشان نہ ہوتا بس میں نابود ہو جاتی۔اخلاق رسول مله دیدار تیم 71 حضرت عائشہ نے بہت ہی باریک بینی سے آنحضرت علی علی کریم کے اخلاق کا، آپ کی زندگی کا مطالعہ کر کے اسکا حاصل یہ بیان کیا کہ آپ کے اخلاق قرآن تھے۔پھر انہوں نے بڑی تفصیل سے سنت رسول الله طی می کنیم 72 اور اسوہ نبی کے بارہ میں ہمارے لئے ایک ذخیرہ فراہم کیا۔آپ سے دو ہزار دو سو احادیث مروی ہیں۔حضرت عائشہ جس بات کو سب سے زیادہ بیان کرتیں اور جس سے وہ متاثر تھیں وہ آنحضرت کا عبادت الہی کے لئے شوق اور جذبہ تھا۔انہوں نے بارہا بیان کیا کہ آنحضرت مالی تم گھر میں عام لوگوں کی طرح رہتے تھے۔اور گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے تھے۔مگر جب نماز کا بلاوا آتا تو آ نحضرت طی می کنم کو نماز کے ساتھ ایسی کشش ہوتی تھی کہ نماز کا نام سنتے ہی لپک کر اٹھتے اور تمام کام کاج چھوڑ کے فوراً نماز کے لئے تشریف لے جاتے)