اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 309
اولاد النبی 309 حضرت امام حسن چاہتے ہیں؟ میں ان کا معاملہ خدا کو سونپتا ہوں۔دوسری روایت میں ہے کہ اگر تو یہ وہی ہے جس پر میرا گمان ہے تو اللہ تعالی کی سز از یادہ سخت ہے اور اگر وہ کوئی دوسرا ہے تو مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بے گناہ میرے بدلہ میں قتل ہو۔45 عمیر بن اسحاق سے روایت ہے کہ ہم حضرت امام حسن کے پاس تھے وہ اندر جا کے باہر آئے اور کہنے لگے کہ مجھے کئی دفعہ زہر پلایا گیا لیکن اس دفعہ سے زیادہ شدید زہر مجھے کبھی نہیں پلا یا گیا اس نے تو میرے جگر کا ایک حصہ باہر نکال پھینکا ہے۔راوی کہتا ہے کہ میں اب بھی اس لو تھڑے کو اپنی ایک چھڑی سے الٹنے 46 پلٹتے دیکھ رہا ہوں۔بعض روایات کے مطابق زہر خورانی کا یہ واقعہ یزید بن معاویہ کی سازش بیان کیا جاتا ہے۔جس کے مطابق حضرت حسنؓ کو ان کی بیوی جعدہ بنت اشعث کے ذریعہ زہر پلایا گیا تھا جس سے آپ پیٹ کی ایسی شدید بیماری 47 میں مبتلا ہوئے کہ آپ کے نیچے (دست اور قے وغیرہ کے لیے ایک برتن رکھا جاتا اور دوسرا اٹھایا جاتا تھا۔زہر خورانی کے نتیجہ میں حضرت حسن چالیس دن تک علیل رہے اور بالآخر آپ کی وفات اسی زہر سے ہوئی۔جب کہ آپ کی عمر قریباً 46 سال تھی۔روایات کے مطابق یہ سانحہ 49ھ یا 50ھ میں پیش آیا۔سعد بن بکر کے آزاد کردہ غلام مساور بیان کرتے تھے کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ کو حضرت امام حسن کی وفات کے دن مسجد کی چھت پر چڑھ کر روتے دیکھا۔وہ بآواز بلند کہ رہے تھے۔اے لوگو ! آج رسول اللہ کا پیارا ( نواسہ) فوت ہو گیا۔اس کی موت پر آنسو بہاؤ۔2 جنازہ اور تدفین 49 حضرت امام حسنؓ کی نماز جنازہ امیر مدینہ سعید بن العاص نے پڑھائی۔حضرت امام حسن کی بصیرت نے قبل از وقت بھانپ لیا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ کی اجازت کے باوجود انہیں مخالف اموی حکمراں آپ کے حجرے میں دفن کرنے کی اجازت نہ دیں گے۔چنانچہ مروان نے اس سے منع کرتے ہوئے کہا کہ خدا کی قسم ! حسن شہر گزر سول اللہ یتیم کے مقبرہ میں دفن نہ ہوں گے کیونکہ حضرت عثمان کو بھی یہاں دفن ہونے سے روکا گیا تھا۔اس موقع پر امام حسین اور امیر مدینہ کے درمیان کچھ بحث بھی ہوئی۔جس پر حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ تم لوگ رسول اللہ علیم کے