اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 179 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 179

ازواج النبی 179 رض حضرت اُم حمیت جاہلیت کے اس دور میں آپ کا یہ عمل ایک طرف غیر مسلم خواتین کے لیے غیرت دینی کا ایک شاہکار تھا تو مسلمان خواتین کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ تھا۔آپ رسول اللہ میں یتیم کے ارشادات پر بغیر کسی تاویل کے لفظا عمل کرنے کی حد تک سختی کی قائل تھیں۔جو دراصل اطاعت کی روح ہے۔خواہ بعض دفعہ اس میں آپ کی رائے شامل نہ ہو۔مثلاً ایک دفعہ آپ کے بھانجے ابوسفیان بن سعید الاخنس نے ستو کھا کر (نماز سے پہلے ) صرف کلی کرنے پر اکتفا کیا تو وہ فرمانے لگیں کہ آگ کی پکی چیز پر رسول اللہ علیم کے ار شاد کے مطابق تمہیں وضو کرنا چاہئے۔حالانکہ یہ حکم منسوخ ہو چکا تھا۔مگر آپ کا جذبہ اطاعت اس واقعہ سے ظاہر ہے۔دیگر روایات حدیث 22 حضرت ام حبیبہ کی دیگر روایات میں ایک حدیث رسول الله طی می کنم بروز قیامت آپ کو حق شفاعت عطا کئے جانے کا ذکر ہے۔دوسری روایت میں آپ بیان فرماتی ہیں کہ رسول کریم ما لم اذان کے کلمات سن کر انہیں دوہرایا کرتے تھے۔اسی طرح عصر سے قبل آپ نے چار رکعات ادا کرنے والے کو جنت کی بشارت دی ہے۔ایک اہم روایت یہ ہے کہ رسول اللہ سلیم نے فرمایا کہ ابنِ آدم کی ہر بات یا کلمہ اسکے اپنے فائدے کے لیے ہوتا ہے سوائے نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے اور ذکر الہی کے جو خدا کے لئے ہے۔دینی غیرت اور محبت رسول صلی علیه السلام رض 23 حدیبیہ کے معاہدہ کے بعد جب اہل مکہ عہد شکنی کے مرتکب ہوئے تو ابو سفیان اس معاہدہ کی توثیق کی خاطر مدینہ آیا اور اپنی بیٹی حضرت ام حبیبہ کے گھر گیا۔جب وہ آنحضرت طی لی ایم کے بستر پر بیٹھنے لگا تو حضرت ام حبیبہ نے فوراً آگے بڑھ کر اس بستر کو لپیٹ دیا۔سردار مکہ ابو سفیان لمبے عرصہ بعد اپنی بیٹی کے گھر آیا تھا۔وہ سخت حیران ہوا کہ میری بیٹی بجائے میرے اکرام و عزت کے لئے بستر بچھانے کے الٹا اپنا بستر لپیٹ رہی ہے۔اس نے بڑے تعجب سے سوال کیا کہ بیٹی کیا یہ بستر میرے قابل نہیں یا کوئی اور بات ہے ؟ حضرت ام حبیبہ نے عرض کیا اتنا! یہ بستر میرے شوہر نامدار ہی کا نہیں میرے آقا حضرت محمد مصطفی ایم کا ہے اور آپ کے ناپاک مشرکانہ عقیدہ کی وجہ سے میں نے حضور کا پاکیزہ بستر لپیٹ کر آپ سے جدا کر دیا ہے۔ابو سفیان نے کہا کہ میری بیٹی ! لگتا ہے جب سے تم مجھ سے جدا ہوئی ہو تمہارے حالات کچھ بگڑ گئے ہیں۔24