اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 180 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 180

ازواج النبی 180 رض حضرت اُم تاہم ام حبیبہ کے اپنے والد کے ساتھ اس معاملہ سے رسول کریم ملی علیم کے اخلاق فاضلہ اور آپ کی سچائی کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔بیوی سے بڑھ کر شوہر کے اخلاق کو کون جانتا ہے۔رسول اللہ ملی تعلیم کے اخلاق ایسے بے تکلف، پاک صاف اور بچے تھے کہ آپ کی صحبت اور قرب میں رہنے والے آپ کے گرویدہ اور والا وشیدا تھے۔حضرت ام حبیبہ کا از خود دینی غیرت کے سبب رسول اللہ علی یا تم کو اپنے باپ پر ترجیح دینا صاف بتاتا ہے کہ رسول اللہ لی فی یتیم کی سچائی پر آپ جان و دل سے فدا تھیں۔انہوں نے اپنے باپ کے خونی رشتہ پر بھی محبت و ادب رسول کو مقدم رکھا حالانکہ ان کا باپ بھی دنیوی لحاظ سے کفار کا بڑا سر دار تھا اور ایک شان و شوکت رکھتا تھا۔مگر ان کی نظر میں اپنے باپ کی دنیوی وجاہت یا کوئی بھی خونی رشتہ رسول الله می کنم کے مقابل پر بیچ تھا۔خلافت سے تعلق حضرت ام حبیبہ رسول اللہ علیم کی تربیت یافتہ تھیں۔آپ نے رسول اللہ علیم کی وفات کے بعد آپ کے خلفاء سے محبت وادب اور وفا کا تعلق قائم رکھا۔حضرت عثمان کی خلافت کے زمانہ میں جب باغیوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو سب سے پہلے حضرت ام حبیبہ آپ کی مدد کو آئیں۔چنانچہ حضرت ام حبیبہ پانی مہیا کرنے کی غرض سے حضرت عثمان کے گھر آئیں۔جب آپ ان کے دروازے تک پہنچیں تو باغیوں نے آپ کو روکنا چاہا۔بعض نے کہا بھی کہ یہ ام المومنین ام حبیبہ نہیں مگر اس پر بھی وہ شورش پسند باغی باز نہ آئے اور آپ کی خچر کو مارنا شروع کر دیا۔ام المومنین حضرت ام حبیبہ نے خلیفہ وقت کے پاس جانے کیلئے یہ معقول وجہ بھی بیان فرمائی کہ اس لئے بھی اندر جانا چاہتی ہوں کہ مجھے خدشہ ہے کہ بنوامیہ کے بیتامی اور بیوگان کی وصایا جو حضرت عثمان کے پاس ہیں ضائع نہ ہو جائیں۔تاکہ ان کی حفاظت کا سامان کر دوں۔مگر ان بد بختوں نے آنحضرت علیم کی زوجہ مطہرہ کی یہ بات ماننے کی بجائے نہایت بے ادبی سے آپ کی خچر پر حملہ کر کے اس کے پالان کے رشتے کاٹ دیئے اور زین الٹ گئی۔قریب تھا کہ حضرت ام حبیبہ گر کر ان مفسدوں کے پیروں کے نیچے روندی جاتیں اور شہید ہو جاتیں کہ بعض مخلصین اہلِ مدینہ نے جو قریب تھے جھپٹ کر انہیں سنبھالا اور گھر پہنچا دیا۔25