اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 176 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 176

ازواج النبی 176 رض حضرت اُم 14 شارح مسلم علامہ نووی نے اسکی ایک وضاحت یوں کی ہے کہ دراصل حبشہ میں ام حبیبہ کے نکاح کے وقت ان کے والد سردار مکہ ابو سفیان کی ولایت اور رضا انہیں میسر نہ تھی۔فتح مکہ کے بعد ابو سفیان کے اس اظہار کا مطلب محض یہ تھا کہ لوگوں کو علم ہو کہ میں نے خوشی سے اپنی بیٹی حضور می یتیم کی زوجیت میں دے دی ہے۔اور حضور طی می ریم کے ساتھ یہ رشتہ مصاہرت نمایاں اور واضح ہو جائے۔اس کمزور تاویل کے مقابل پر دوسری نسبتاً معقول تاویل وہ ہے جو علامہ ابن کثیر نے کی ہے کہ دراصل ابو سفیان نے ام حبیبہ کے دوبارہ بیاہ کر دینے کا ذکر نہیں کیا تھا بلکہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت طی یکم جب بادشاہ بن گئے تو ابوسفیان نے اپنی دوسری بیٹی عزّہ کو بھی آپ کے عقد میں دینے کی پیشکش کی تھی۔اس بات کی تائید صحیح بخاری، صحیح مسلم، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور مسند احمد کی روایات سے بھی ہوتی ہے جن میں یہ ذکر رض رض 15 رض ہے کہ خود حضرت ام حبیبہ نے حضور علی علیم سے ذکر کیا تھا کہ یار سول الله طی کنم ! میں چاہتی ہوں کہ آپ میری بہن عزہ کو اپنے عقد میں لے لیں (ممکن ہے ان کی یہ درخواست اپنے والد کی خواہش کے پیش نظر ہو)۔حضور عالم نے فرمایا کہ کیا تم پسند کرو گی کہ تمہاری بہن تمہاری سوکن بن کر آجائے۔حضرت ام حبیبہ نے جواب دیا کہ اور بھی تو سو کنیں ہیں۔اگر میری بہن اس سعادت میں میرے ساتھ شریک ہوتی ہے تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔حضور ملی ہم نے فرمایا کہ یہ جائز نہیں۔اسلام میں دو بہنوں کو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں اکٹھا کرنا منع ہے۔اس طرح حضور علی یا یہ کہ ہم نے اس رشتہ سے معذرت کر لی تھی۔اللہ اور بندوں کی ادائیگی حقوق کا حسین امتزاج حضرت ام حبیبہ کو اللہ تعالی نے غیر معمولی ایمان کی مضبوطی اور اسلام اور آنحضرت علیم کی سچی محبت سے نوازا تھا۔وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی خوب رعایت رکھتی تھیں۔وہ بیان کرتی ہیں کہ حضور نے ایک دفعہ مجھ سے فرمایا کہ جو شخص دن اور رات میں بارہ رکعات نفل ادا کرتا ہے اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنایا جاتا ہے۔آپ فرماتی تھیں کہ جب سے آنحضرت لیلی تم سے میں نے یہ حدیث سنی اس کے بعد سے لے کر آج تک میں نے کبھی بھی یہ نوافل نہیں چھوڑے۔اور روزانہ یہ بارہ نوافل ادا کرتی ہوں۔حضرت ام حبیبہ کو عبادات اور دعاؤں سے خاص شغف تھا۔اپنے والد کے قبول اسلام کے بعد جہاں ان کے حقوق کے دیگر تقاضے پورے کئے وہاں ان کے حق میں دعائیں بھی کیا کرتی تھیں۔ایک دفعہ 16