اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 77 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 77

ازواج النبی 77 حضرت عائشہ صورت میں تو یہ بات کہیں بڑھ سکتی ہے۔طبعی غیرت کے جذبات کے ساتھ ان نازک تعلقات کو خوش اسلوبی سے استوار رکھنا بھی ایک اہم اور کٹھن مرحلہ ہو جاتا ہے۔جسے سر کرناہر ایک کا کام نہیں۔رسول الله تعلیم کے حسن خلق کا کمال یہ تھا کہ آپ نے اپنے گھر میں کبھی کوئی نا قابل تلافی شکایت یا مستقل نزاع پیدا نہیں ہونے دیا۔اور کبھی کوئی ہلکے پھلکے مسائل پیدا ہوئے بھی تو آپ خوبصورت انداز میں ان کا بہترین حل نکال لیتے تھے۔ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ کریم نے فرمایا " اے عائشہ ! جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو مجھے اس کا پتا چل جاتا ہے "۔انہوں نے پوچھا وہ کیسے ؟ فرمایا، "جب تم مجھ سے راضی یا خوش ہوتی ہو تو بات کرتے ہوئے کہتی ہو رب محمد۔مجھے محمد علم کے رب کی قسم ! بات یوں ہے۔لیکن جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو ورب ابراھیم کہ ابراہیم علیل نام کے رب کی قسم ! بات یوں ہے۔" حضرت عائشہ نے کہا " یار سول اللہ علیکم ! بات تو ٹھیک ہے مگر خدا کی قسم ! اس ناراضگی کے وقت بھی میں صرف آپ کے نام کو ہی چھوڑتی ہوں۔دل سے آپ کی محبت نہیں جاتی۔" یہ ہمارے آقا و مولی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تھی کہ کس طرح آپ نے حضرت عائشہ کو اپنے اخلاق فاضلہ سے ย 3611 گرویدہ کر لیا تھا۔ایک دن حضرت عائشہ گھر میں آنحضرت طلی یا تم سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ ان کے ابا حضرت ابو بکر تشریف لائے۔یہ حالت دیکھ کر ان سے رہانہ گیا اور اپنی بیٹی کو مارنے کیلئے آگے بڑھے کہ خدا کے رسول کے آگے ایسے بولتی ہو۔آنحضرت یہ دیکھتے ہی باپ اور بیٹی کے درمیان حائل ہو گئے اور حضرت ابو بکر کی کسی سزا سے حضرت عائشہ کو بچالیا۔جب حضرت ابو بکر چلے گئے تو رسول کریم حضرت عائشہ سے از راہ تفنن فرمانے لگے۔دیکھا آج ہم نے تمہیں تمہارے ابا سے کیسے بچایا؟ کچھ دنوں کے بعد حضرت ابو بکر دوبارہ تشریف لائے تو حضرت عائشہ آنحضرت مالی اسکیم کے ساتھ جنسی خوشی باتیں کر رہی تھیں۔حضرت ابو بکر کہنے لگے دیکھو بھئی تم نے اپنی لڑائی میں تو مجھے شریک کیا تھا اب خوشی میں بھی شریک کر لو۔حضرت عائشہ اپنا یہ دلچسپ واقعہ بھی سناتی تھیں کہ ایک دفعہ کسی معاملہ میں رسول کریم کے ساتھ میری کچھ تکرار ہو گئی۔آپ فرمانے لگے " تم کسی کو ثالث بنالو۔کیا عمر بن الخطاب منظور ہیں ؟“ حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے کہا ” نہیں وہ سخت مزاج ہیں۔آپ نے فرمایا ” اچھا اپنے والد کو ثالث بنالو۔“ میں نے کہا ٹھیک 37