اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 43
رض حضرت خدیجہ 43 ازواج النبی شادی سے اجتناب کیا۔اور غالباً اس وجہ سے بھی کہ خدیجہ کے خاندان کا اثر و رسوخ مکمل طور پر حاصل رہے۔خدیجہ کی وفات کا یہ صدمہ گوابتداء میں ناقابل برداشت تھا کیونکہ اس وقت شدید اور گہرے جذبات تھے۔مگر یہ اثرات عارضی اور وقتی رہے۔خدیجہ کی جگہ تو پُر کی جاسکتی تھی۔مگر ان کی وفا شعاری اور نیکیاں بے بدل تھیں باوجود اس کے کہ ان کی وفات کے بعد بہت سی خواتین آپ کے عقد میں آئیں۔اس کے مقابل پر ایک انصاف پسند ہند و سوامی لکشمن پر شاد نے آنحضرت لیلی لیلا کالم کے حضرت خدیجہ سے حسن وفا کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے :۔"آپ نے ام المومنین کی حین حیات میں دوسرے نکاح کا نام تک نہیں لیا۔اسی پیرانہ سال بڑھیا پر جس کا گلشن شباب پامال عمر ہو چکا تھا، ہزار جان سے فریفتہ رہے۔روحانی محبت کا یہ وہ گلشن ہے جس کے پھولوں میں نفسانیت کی بُو نہیں پائی جاتی۔۔۔۔پینسٹھ 65 سال کی عمر میں خدیجہ الکبریٰ اپنے بہترین شوہر کو ہمیشہ کیلئے داغ مفارقت دے گئیں اور ایک گوشہ زمین میں ابدی نیند جاسوئیں۔مگر ان کے دل نواز شوہر کے دل کی عمیق ترین گہرائیوں میں جو جذبات محبت ان کیلئے موجود تھے وہ ان کے جسم کے ساتھ مدفون نہیں ہو گئے بلکہ انہوں نے ہمیشہ آپ کے دل کو محشرستان بنائے رکھا۔ان کی فداکار محبت اور شیریں کار عشق کے نقوش ہمیشہ آپ کے لوح دل پر مرتسم رہے۔دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انقلاب اور زمانے کی کوئی بڑی سے بڑی گردش ان کو مٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکی "۔اللهمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكُ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ***** ****** ***