اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 41 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 41

ازواج النبی 41 حضرت خدیجہ رض مجھے نظر آئے کہ میرے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے، میں نے دعا کی کہ "اگر آج رسول اللہ ملی تم کا غصہ دور ہو جائے تو پھر میں زندگی کے آخری سانس تک کبھی حضرت خدیجہ کے بارہ میں کوئی ایسی بات نہیں کروں گی"۔تب میری پشیمانی دیکھ کر آنحضرت نے فرمایا کہ "اے عائشہ ! واقعہ یہ ہے کہ خدیجہ سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا۔وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائی تھی جب ساری دنیا میرا انکار کر رہی تھی اور اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب ساری دنیا مجھے جھٹلارہی تھی۔اور اس وقت اس نے اپنے مال کے ساتھ میری ہمدردی اور خیر خواہی کی جب تمام لوگ مجھے چھوڑ چکے تھے۔پھر فرمایا کہ اے عائشہ ! میں کیا کروں خدیجہ کی محبت تو مجھے پلا دی گئی ہے اور میرے دل میں بٹھادی گئی ہے۔" اور ایسا کیوں نہ ہو تا جب کہ خود عرش کے خدا نے بھی حضرت خدیجہ کو سلام پہنچایا۔آئیے ! ہم بھی اس 3811 عظیم خاتون پر سلام بھیجیں جس کو عرش کے خدا نے سلام بھیجا۔سلام ہو آپ پر اے خدیجۃ الکبری ! وفات حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت مدینہ سے تین سال قبل رمضان المبارک کے مہینہ میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔جو 9 یا 10 نبوی بنتا ہے۔یہ سال مسلمانوں میں "عام الحزن "کا سال کہلاتا ہے۔جو ایک غم کا پہاڑ بن کر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ملی تم پر ٹوٹا کیونکہ آپ کی غمگسار ، آپ کی ساتھی ، آپ کی شریک حیات اس سال رخصت ہو گئی۔اسی سال حضرت خدیجہ کی وفات سے تین روز قبل آپ کے چا ابو طالب 40 نے بھی وفات پائی۔جنہوں نے آپ کے دادا عبد المطلب کی وفات کے بعد آپ کی پرورش کی تھی۔حضرت خدیجہ نے قریباً پچیس 25 سال کا عرصہ رسول اللہ علیم کی صحبت میں گزارا۔اور اپنی زندگی کے آخری سانس تک آنحضرت علیم کے ساتھ وفا کرتے ہوئے بالآخر اس دنیا سے کوچ کر گئیں۔وفات کے وقت آپ کی عمر پینسٹھ 65 سال تھی۔حضرت خدیجہ کی تدفین جون مقام پر ہوئی۔اس زمانے میں ابھی جنازہ کا دستور نہ تھا۔حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے تھے کہ ہماری پھوپھی حضرت خدیجہ کی وفات ہوئی تو ہم گھر سے ان کی میت لے کر نکلے اور انہیں حجون مقام پر جاکر دفن کیا۔جواب جنت معلیٰ کے نام سے موسوم ہے۔0 41