اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 325
اولاد النبی 325 حضرت امام حسین دے کر مسلم بن عقیل کو (جور کیس کو فہ بانی کے گھر روپوش تھے ) گرفتار کر لیا۔حضرت مسلم کو ابن زیاد سے گفتگو کے بعد یقین ہو گیا کہ وہ شہید کر دیے جائیں گے۔انہوں نے حضرت امام حسین کو اہل کوفہ کی عہد شکنی کے باعث کو فہ نہ آنے کا پیغام بھجوایا۔ہانی اور مسلم 3 ذوالحجہ کو شہید کر دیئے گئے۔کرشمہ تقدیر ملاحظہ ہو کہ اس واقعہ کی اطلاع مکہ پہنچنے سے پہلے اسی روز حضرت امام حسین مکہ سے کوفہ روانہ ہوئے۔مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام حسین حالات کی نزاکت کا اندازہ ہو چکا تھا۔چنانچہ اس سفر کے آغاز پر انہوں نے جو اظہار کیا اس سے خدا کی تقدیر پر ان کے ایمان، توکل کے علاوہ حسن نیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مقصد حمایت حق اور تردید باطل تھا۔انہوں نے فرمایا " اللہ ہی کے ہاتھ میں تمام کام ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور ہمارا رب ہر روز نئی شان میں ہوتا ہے۔اگر کوئی چیز ہماری مراد کے موافق ہوئی تو ہم اللہ کا شکر ادا کریں گے اور اگر تقدیر الہی ہماری مراد میں حائل ہو گئی تو وہ شخص زیادتی اور خطاء پر نہیں ہو تا جس کی نیت حق کی حمایت پر ہو۔اور جس کے دل میں خوف خدا ہو " سفر کربلا مکہ مکرمہ سے کربلا تک قریباً نو صد کلو میٹر کا سفر ایک ماہ میں طے ہوا۔کئی روز بعد خزیمہ مقام پر آپ کو مسلم بن عقیل کی شہادت کا علم ہوا۔اس اطلاع پر واپسی کے مشورے شروع ہوئے، مگر حضرت مسلم کے بھائی کو فہ جاکر بدلہ لینے پر مصر تھے۔اسی دوران حضرت امام حسین نے رویا میں رسول اللہ صلی نم کو دیکھا کہ وہ آپ کو کوئی ارشاد فرماتے تھے جس کا مطلب انہوں نے یہی سمجھا کہ میری جان پر کچھ بھی گزر جائے اب واپسی محال ہے۔تا ہم آپ نے اپنے ہمراہیوں کو واپسی کا اختیار دے دیا اور عام لوگ تتر بتر ہونے لگے صرف بہتر کی تعداد میں اہل بیت کے جانثار اور چند لوگ باقی رہ گئے۔اشراف مقام پر حاکم کوفہ ابن زیاد کے حکم پر حربن قیس ایک ہزار کا لشکر لے کر آگیا۔وہ اس قافلہ کو گھیر کر کو فہ لے جانا چاہتا تھا۔حضرت امام حسین نے بارہا کھل کر یہ اظہار کیا کہ میں نے اہل کوفہ کے بلاوے پر وہاں جانے کا عزم کیا تھا، اگر ان کی رائے بدل گئی ہے تو میں واپس چلا جاتا ہوں۔انہوں نے حربن قیس کو اہل کوفہ کے وہ خط بھی دکھائے۔اس نے کہا کہ ہم یہ خط لکھنے والے نہیں، ہمیں تو اپنے امیر کا حکم ہے کہ آپ کو کوفہ لے جائیں یا آپ مدینہ کا کوئی راستہ لیں جہاں یزیدی حکومت کا امیر موجود تھا۔حضرت امام حسین نے کہا کہ اس سے موت بہتر ہے "۔اب واپسی کی راہیں مسدود ہو چکی تھیں۔دونوں گروہ متوازی چلتے ہوئے قصر بنی