اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 326 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 326

اولاد النبی 326 حضرت امام حسین مقاتل پہنچے۔تقدیر کے اشارے بگڑتی ہوئی صور تحال کو ظاہر کر رہے تھے۔اس جگہ حضرت امام حسین نیند سے اچانک بیدار ہوئے پہلے اناللہ اور پھر الحمد للہ پڑھا اور فرمایا " خواب میں ایک سوار کہتا ہے کہ قوم موت کی طرف بڑھ رہی ہے۔آپ کے کم سن صاحبزادے زین العابدین نے یہ سن کر کہا کہ حق کی راہ میں موت آتی ہے تو کیا پر واہ ؟ اس سے اگلے پڑاؤ پر قطقطانیہ میں امام حسین نے کشفی نظارہ دیکھا کہ آپ شہید کر دیئے جائیں گے۔چنانچہ 2 محرم کو پھر کسی دوسری طرف نکل جانے کی تدبیر کی مگر څڑ نے انکار کر دیا یہاں تک کہ میدان کربلا پہنچے۔یہاں ابن زیاد کا قاصد حُر کے نام خط لا یا کہ امام حسین کو روک کر بے آب و گیاہ بیابان میں اتار دو۔چنانچہ اس نے حضرت امام حسینؓ کو یہ اطلاع دی کہ مجھے حکم ملا ہے کہ آپ سے بیعت لوں یا پھر یزید کے پاس بھجوادوں، حضرت امام حسین نے قاصد سے کہا کہ " ان پر عذاب آنے کو ہے"۔پھر اپنے ساتھیوں کے سامنے خدا کی راہ میں جان دینے کا بلند مرتبہ بیان کر کے صورتحال پر روشنی ڈالی۔ابن سعد لشکر کربلا میں 3 محرم کو عمر ابن سعد کوفہ سے مزید چار ہزار فوج لے کر کربلا پہنچ گیا۔اس نے حضرت امام حسین سے یہاں آنے کی وجہ پوچھی۔امام حسین نے فرمایا " میں اہل کوفہ کے اصرار پر آیا ہوں۔اگر میر ا آنا منظور نہیں تو مجھے واپس جانے دو۔ابن زیاد نے یہ سن کر بظاہر اطمینان کا اظہار کیا مگر امام حسین کے رشتہ کے ماموں شمر ذی الجوشن نے اکسایا کہ بیعت یزید کے لیے امام حسین کو قابو کرنے کا یہی موقع ہے۔4 محرم کو ابن زیاد نے ایک طرف ابن سعد کو خط بھجوایا کہ امام حسین اور اس کے اصحاب پہلے بیعت کریں۔دوسری طرف مسجد کوفہ میں عوام کو انعام واکرام کا وعدہ کر کے قتل حسین پر آمادہ کیا۔جس پر شمر ، حصین اور ابن نمیر کے ساتھ چار چار ہزار کے تین لشکروں کے علاوہ یزید بن رکاب اور محمد بن اشعث کے ساتھ مزید تین ہزار کا لشکر تیار ہو گیا۔5 محرم کو یہ لشکر کوفہ سے کربلا روانہ ہوئے اور 6 محرم کو کربلا پہنچنے لگے۔ابن سعد نے عمرو بن حجاج کی کمان میں پانچ صد کی نفری دریائے فرات پر تعینات کی تاکہ آل رسول م م کو پانی سے روکیں۔7 محرم کو پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے امام حسین نے پچاس سوار و پیادے دریائے فرات پر بھجوائے ، مگر عمر و بن حجاج کے روکنے کے باوجود وہ بحفاظت اپنے مشکیزے پانی سے بھر لائے۔رات کو حضرت امام حسینؓ نے ابن سعد کو بلوا کر اتمام حجت کرتے ہوئے آل رسول سے جنگ سے باز رہنے کی تلقین کی۔