اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 306
اولاد النبی 306 حضرت امام حسن مصالحت ہو گئی یوں رسول اللہ علیم کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی "میرا یہ سردار بیٹا دو عظیم گروہوں کے در میان صلح کروائے گا" اور اس مصالحت کا سہر احضرت حسنؓ کے سر رہا۔حضرت بانی جماعت احمد یہ اس اہم تاریخی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔حضرت حسن میں بھی دو ہی صلحیں تھیں۔ایک صلح تو انہوں نے حضرت معاویہ کے ساتھ کرلی۔دوسری صحابہ کی باہم صلح کرادی " مصالحت کے بعد تقریر ย 3711 مصالحت کے نتیجہ میں حضرت امام حسن امیر معاویہ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔اس موقع پر حضر نہ امیر معاویہ کے مشیر حضرت عمرو بن العاص نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ امام حسنؓ کو کہیں کہ وہ مجمع عام میں اپنی اس دستبرداری کا اعلان کریں۔حضرت امیر معاویہ کو یہ بات پسند نہ تھی۔انہوں نے عذر بھی کیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔حضرت عمرو نے کہا کہ امام حسن سیاسی امور سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے اس لیے اس موضوع پر ان کی خاموشی دنیا پر ظاہر ہو جائے گی۔اس اصرار کے بعد ایک مجلس میں امیر معاویہ نے حضرت حسنؓ سے کہا کہ اب ہمارے درمیان جو کچھ معاہدہ طے پایا ہے وہ آپ لوگوں کے سامنے بیان کر دیں۔اس موقع پر حضرت امام حسن نے حضرت عمرو کی توقع کے برخلاف موقع کی مناسبت سے ایک نہایت جامع اور فصیح و بلیغ دلنشیں خطاب فرمایا۔انہوں نے کہا " تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے ذریعہ تمہارے پہلوں کو ہدایت عطا فرمائی اور تمہارے بعد میں آنے والوں کے خون کی ہمارے ذریعہ حفاظت فرمائی۔اس پر بھی اللہ کی حمد ہے۔سنو! تم میں سے سب سے زیادہ ذہین انسان وہ ہے جو متقی ہو اور سب سے زیادہ عاجز رہ جانے والا بد کار ہے اور یہ معاملہ حکومت جس میں میرے اور معاویہ کے درمیان اختلاف ہوا کہ وہ اس کے زیادہ حقدار ہیں یا یہ میرا حق ہے۔میں نے محض خدا کی خاطر اور امت محمدیہ کی بہبود اور ان کو خون سے بچانے کے لیے اس سے سبکدوش ہو گیا۔اور پھر آپ نے امیر معاویہ کی طرف متوجہ ہو کر سورۃ الانبیاء کی یہ آیت پڑھی وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ (الانبياء: 109) ترجمہ: میں نہیں جانتا کہ شاید یہ تمہارے لیے آزمائش ہے اور محض ایک قلیل مدت تک کا فائدہ۔دوسری روایت کے مطابق حضرت حسنؓ نے اپنے خطبہ میں یہ بھی فرمایا کہ خلیفہ تو وہ ہوتا ہے جو سیرت رسول ملی یا نیم پر چلنے والا اور آپ کی اطاعت پر عمل "