اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 305
اولاد النبی 305 حضرت امام حسن دوسری طرف والی شام حضرت امیر معاویہ کو بھی اس بات کا اندازہ تھا کہ حضرت حسن طبعا صلح جو ہیں اور انہیں فتنہ و انشقاق گوارا نہیں۔امیر معاویہ نے حضرت حسن مو مخفی طور پر صلح کا پیغام بھجواتے ہوئے اپنی بیعت کر لینے کے عوض یہ پیشکش بھی کی کہ ان کی وفات کے بعد حضرت حسن ان کے جانشین ہوں گے۔حضرت امام حسن تو بہر صورت صلح چاہتے تھے انہوں نے اپنے حامیوں میں اس مصالحت کے لیے راہ ہموار کرناشروع کر دی۔پہلے آپ نے اپنے چچازاد حضرت عبد اللہ بن جعفر کو اس کے لیے تیار کیا پھر اپنے بھائی حضرت امام حسین سے بات کی۔اور انہیں بھی اس مصالحت کے لیے آمادہ کر لیا۔اس طرح حضرت حسن کی بیعت پر چار ماہ گزر گئے جس میں وہ عراق اور خراسان کے حاکم تھے اور امیر معاویہ اہل شام کے۔پھر آپ نے امیر معاویہ کی طرف کوچ کیا اور انہوں نے اپنی فوجوں سمیت آپ کی طرف رخ کیا۔حضرت حسنؓ کے مقدمة الجیش کے سالار حضرت قیس بن سعد تھے جو صاحب شرطہ (پولیس کے انچارج) کے طور پر مشہور تھے۔جب دونوں فوجیں " انبار " کے قریب جمع ہوئیں تو فریقین کو اندازہ ہو گیا کہ کوئی ایک گروہ دوسرے کی اکثریت کو ہلاک کئے بغیر غالب نہیں آسکتا۔تب با قاعدہ مصالحت کا آغاز ہوا۔حضرت حسنؓ نے حضرت معاویہ کو لکھا کہ میں اپنی امارت و حکومت آپ کے حوالہ کرتا ہوں مگر شرط یہ ہوگی کہ آپ حضرت علیؓ کے زمانہ خلافت میں ہونے والی جنگوں سے متعلق مدینہ ، حجاز اور عراق کے لوگوں کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی نہیں کریں گے۔امیر معاویہ اس پیشکش پر خوش تو ہوئے مگر جو بالکھ بھیجا کہ آپ کی یہ شرط مجھے قبول ہے سوائے دس افراد کے جنہیں میں امان نہیں دے سکتا حضرت حسنؓ نے اسے قبول نہ کیا۔اس پر امیر معاویہ نے لکھ بھیجا کہ خواہ میں نے قسم کھائی ہو کہ قیس 35 36 بن سعد پر اختیار پانے کی صورت میں اس کی زبان اور ہاتھ کاٹ ڈالوں گا پھر بھی اسے امان دے دوں ؟ حضرت حسنؓ نے صاف جواب دیا کہ اگر آپ میرے سالار قیس بن سعد یا کسی بھی ساتھی کے خلاف انتقامی کاروائی کرتے ہیں جس سے فتنہ کو ہوا ملے تو میں آپ کی بیعت نہیں کر سکتا۔اس پر امیر معاویہ نے ایک سفید کاغذ حضرت حسنؓ کو بھیجا کہ پھر آپ جو چاہیں اپنی شرائط اس پر لکھ دیں، میں ان کو قبول کروں گا۔شرائط صلح میں امیر معاویہ کی وہ ابتدائی پیشکش بھی شامل تھی کہ ان کی وفات کے بعد حضرت حسنؓ ان کے جانشین ہوں گے اس طرح ربیع الاول 41ھ میں حضرت امیر معاویہ اور حضرت امام حسن کے درمیان