اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 299
اولاد النبی 299 حضرت امام حسن کیا ہی خوش نصیب تھے وہ بچے جنہوں نے رسول اللہ علیم کی گود میں نشوونما پائی۔آپ کی بے پایاں شفقت پدری کے ایسے بے شمار واقعات میں سے ایک کا ذکر ہمیں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت میں یوں ملتا ہے کہ ایک دن رسول کریم ملی می کنم بنو قینقاع کے بازار میں تشریف لے گئے۔واپسی پر حضرت فاطمہ کے گھر کے صحن میں تشریف فرما ہوئے اور اپنے نواسہ کے بارہ میں استفسار کرتے ہوئے فرمایا ہمار انتھا یہیں ہے؟ ننھا یہیں ہے ؟ حضرت فاطمہ نے جلدی سے بیٹے کا منہ دھلا یا کپڑے پہنائے اور حسن دوڑتے ہوئے آکر رسول اللہ علیم سے چمٹ گئے۔آپ نے انہیں گلے لگایا پیار سے بوسہ دیا اور دعا کی "اے اللہ ! اس سے محبت کر اور اس سے بھی کر جو اس سے محبت کرے۔' حضرت ابو ہریرۃ کی ہی دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ علیم نے حضرت حسن کو بوسہ دیا اور اس وقت آپ کے پاس بنو تمیم کے قبیلہ کا سردار اقرع بن حابس بھی موجود تھا۔اس نے کہا میرے دس بچے ہیں میں نے تو آج تک ان میں سے کسی کو نہیں چوما۔رسول اللہ صلی یا تم نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔911 رسول اللہ لی یتیم بچوں سے اس تمام تر شفقت اور محبت کے باوجود اپنی اولاد کی تربیت کا بہت خیال رکھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت امام حسنؓ نے صدقہ کی کھجوروں میں سے کوئی کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی۔نبی کریم علم نے فرمایا کی کمی یعنی تھو کر دو۔فرمایا بچے! کیا تجھے معلوم نہیں کہ ہم (اہل بیت) صدقہ نہیں کھاتے_ رسول الله علی کریم نے حضرت حسن کی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام فرماتے ہوئے انہیں نماز کی بعض دعائیں بھی یاد کروائیں۔خود حضرت حسن بیان کرتے ہیں کہ رسول الله علی لیا کہ تم نے مجھے وتر میں پڑھنے کیلئے یہ دعائے قنوت سکھائی۔اللّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَن هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَن عَافَيتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَن تَوَلَّيتَ وَبَارِكَ لِي فِيمَا أَعطيتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيتَ إِنَّكَ تَقفِى وَلَا يُقفى عَلَيكَ إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَن وَّالَيتَ وَلَا يَعِزُّ مَن عَادَيت تَبَارَکتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيتَ - ترجمہ : اے اللہ ! مجھے ہدایت عطا فرما ان میں سے جن کو تو ہدایت کرے۔اور مجھے عافیت عطا فرما ان میں سے جن کو تو عافیت عطا کرے۔اور مجھے دوست بنالے ان میں سے جن کو تو خود دوست بناتا ہے۔اور جو کچھ