اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 298
اولاد النبی 298 حضرت امام حسن حسن اور باطنی خوبیوں کا مرقع۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ جاہلیت میں حسن اور حسین وغیرہ جیسے نام رکھنے کا رواج نہ تھا اور یہ جنت کے ناموں میں سے ہیں۔یوں رسول اللہ لی لی کہ تم نے جس حسین انقلاب آفریں دور کا آغاز فرمایا اس کے ناموں کو بھی حسن سے بھر کے اسم با مسمی بند کی بنادیا۔حضرت حسن شکل و صورت میں رسول اللہ صلی یی یتیم سے اتنی مشابہت رکھتے تھے کہ شبیہ رسول کے لقب سے معروف تھے۔حضرت علی فرماتے تھے کہ حضرت حسن سر سے سینہ تک رسول اللہ علیم سے مشابہ 5 حضرت ابو جحیفہ بیان کرتے تھے کہ میں نے نبی کریم طی می کنیم کو دیکھا ہوا ہے۔حضرت حسن بالکل آپ کی رض شباہت پر تھے۔جب ان سے حضرت حسن کا حلیہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کار نگ سفید تھا۔حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابو بکر نے حضرت حسنؓ کو اٹھار کھا ہے اور کہہ رہے ہیں بِأَبِي شَبِيهُ بِالنَّئ لَيْسَ شَبِيهُ بِعَلِيَّ بخدا یہ بچہ ( حسن) تو بالکل نبی کریم میم کی صورت ہے، علی سے بالکل بھی مشابہ نہیں اور حضرت علی یہ سن کر مسکرا رہے تھے۔0 حضرت ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ حضرت حسن بن علی کو کھلاتے ہوئے اچھالتی جاتی تھیں اور ساتھ یہ شعر بھی گنگناتی تھیں کہ حسن تو اپنے باپ علی سے کہیں زیادہ اپنے نانا کی شبیہ ہے۔تربیت رسول حضرت حسن خاندان نبوت میں پروان چڑھنے والے پہلے لڑکے تھے جنہیں رسول اللہ لی لی امی کی صحبت کی سعادت میسر آئی۔رسول اللہ لی لی یتیم بچوں کیلئے خصوصاً بے حد رحیم و کریم تھے اور حضرت حسنؓ نے آنحضرت میم کی شفقت و محبت اور رحمت سے بھی وافر حصہ لیا اسی لئے آپ ريحانة النبي کے لقب سے بھی یاد کئے جاتے ہیں یعنی نبی کریم عا لم کی خوشبو۔اسی محبت کے صدقے آپ نے رسول الله السلام کی دعاؤں کا فیض بھی خوب پایا۔