اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 297
اولاد النبی 297 حضرت امام حسن حضرت امام حسن نام و نسب حضرت حسن رسول اللہ علیم کے نواسے اور اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی بن ابی طالب بن عبد المطلب کے صاحبزادے تھے۔آپ رسول اللہ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ کے بطن سے تھے اور کنیت ابو محمد تھی۔آپ کے والد حضرت علی بن ابی طالب بن عبد المطلب آنحضور طی عالم کے چچازاد بھائی تھے۔حضرت حسنؓ کی ولادت با سعادت ہجرت مدینہ کے تیسرے سال 15 رمضان المبارک کو ہوئی۔رسول اللہ صلی علی کریم نے خود اپنے نواسے حضرت حسن کے کان میں اذان کہی۔نبی کریم فرماتے تھے کہ ہر بچہ اپنے عقیقہ کی قربانی کے عوض رہن ہوتا ہے۔مطلب یہ کہ دنیا جو آفات و آلام کا گھر ہے یہاں پر متنفس کو مصائب و آلام در پیش ہیں۔لہذا کسی بیماری حادثہ یا تقدیر شر سے حفاظت کے لیے اس کی طرف سے رڈ بلا کے طور پر جانور کی قربانی کر دینی چاہیئے۔2 آپ ہدایت فرماتے تھے کہ حسب توفیق لڑکے کی طرف سے دو مینڈھے اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور قربانی، دعا کی خاطر ذبح کروا کے گوشت رشتہ داروں اور مستحقین میں تقسیم کیا جائے۔اپنے پہلے بیٹے کی پیدائش پر حضرت فاطمہ الزہراء نے اس کی طرف سے دو مینڈھوں کی قربانی کرنا چاہی۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم الی یا ہم خود اپنے نواسے کے عقیقہ کا ارادہ فرما چکے تھے۔آپ نے فرمایا کہ تم اس کا عقیقہ نہ کرو بلکہ اس کا سر منڈوا کر اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کر دو۔پھر خود رسول اللہ علی یا ہم نے ساتویں روز حضرت امام حسن کے عقیقہ کیلئے دو مینڈھے ذبح کروائے۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ حسن کی پیدائش پر رسول کریم ملی یا کریم ہمارے گھر تشریف لائے اور فرمایا مجھے میرا بیٹا تو دکھاؤ۔تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے ؟ حضرت علیؓ نے عرض کیا۔میں نے اس کا نام "حرب" تجویز کیا ( حرب کے معنے جنگ کے ہیں ) رسول اللہ علیم نے فرمایا نہیں اس کا نام "حسن " ہے یعنی ظاہری 3