اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 243 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 243

ازواج النبی 243 حضرت ریحانہ ย بحث کا یہ موقع نہیں۔یہاں اصل بحث طلب امر قید ہو نیوالے بچوں اور عورتوں میں ایک خاتون ریحانہ کا معاملہ ہے۔جو مال فے میں شامل ہونے کے باعث رسول اللہ صلی می کنیم کی ملکیت تھیں۔ان کے بارہ میں متنوع روایات کے باعث محدثین، مؤرخین اور اہل سیر میں اختلاف ہے کہ وہ رسول اللہ سکیم کے حرم میں شامل تھیں یا کنیز تھیں۔محد ثین میں سے امام حاکم نے مستدرک میں ، امام طبرانی نے معجم الکبیر میں اور علامہ بیہقی نے سنن الکبریٰ میں حضرت ریحانہ کے علاوہ شاہ مصر کی طرف سے رسول کریم کمی کی خدمت میں بھجوائی گئی خاتون ان کے نزدیک حضرت ماریہ کے ہاں صاحبزادہ ابراہیم کی ولادت پر 15 حضرت ماریہ کو بھی کنیز لکھا ہے۔بطور اتم ولدا نہیں ازواج النبی میں شامل کر لیا جاتا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ رسول الله علی ی ی ی نیم کو سورہ احزاب کی آیت 53،51 میں ملک یمین کی جو اجازت تھی اس سے آپ نے فائدہ نہیں اٹھایا۔اور جنگی قیدی بنانے کی اس استثنائی اجازت کو اس حکم سے مشروط 16 رکھا جس میں ارشاد ہے مَا كَانَ لِنَي أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُشْخِنَ فِي الْأَرْضِ (الانفال : 68) یعنی کسی نبی کیلئے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کئے بغیر قیدی بنائے۔مگر رسول اللہ لی ہم نے اس جواز کے باوجود کبھی کوئی کنیز نہیں رکھی۔پس حضرت ماریہ تو روز اول سے ہی زوجہ کر سول تھیں کیونکہ وہ جنگی قیدی نہ تھیں۔یہی صورت حضرت ریحانہ کے بارہ میں موجود روایات کی ہے کہ اگر ان کو یکسر رڈ بھی نہیں کیا جاسکتا تو قبول کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ریحانہ کنیز نہیں زوجہ کرسول تھیں۔محد ثین بیہقی اور طبرانی کے مطابق رسول اللہ صلی علیم نے حضرت ریحانہ کو آزاد کر دیا تھا اور وہ اپنے قبیلہ میں جاکر پردہ میں رہنے لگی تھیں۔یہی رائے مؤرخ طبری اور ابن اسحاق کی ہے۔اہل سیر میں سے ابن رض 19 الا شیر نے حضرت ریحانہ اور حضرت ماریہ دونوں کو کنیز قرار دیا ہے۔علامہ ابن حجر نے اس رائے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابن الا شیر کو حافظ ابن مندہ کی کتاب طبقات صحابہ کی اس غیر معمولی اہمیت کی حامل روایت کا علم نہیں ہوا جن کے مطابق ریحانہ کا اپنے خاندان میں جاکر پردہ نشین ہو کر رہنے لگی تھیں۔20 صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں:۔