اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 8
ازواج النبی 8 تعددازدواج موجبات سے ایک سے زیادہ بیوی کرنے کیلئے مجبور ہوتا ہے مثلاً اگر مرد کی ایک بیوی تغیر عمر یا کسی بیماری کی وجہ سے بد شکل ہو جائے تو مرد کی قوت فاعلی جس پر سارا مدار عورت کی کارروائی کا ہے بے کار اور معطل ہو جاتی ہے۔لیکن اگر مرد بد شکل ہو تو عورت کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ کارروائی کی کل مرد کو دی گئی ہے اور عورت کی تسکین کر نامرد کے ہاتھ میں ہے۔ہاں اگر مرد اپنی قوت مردی میں قصور یا عجز رکھتا ہے تو قرآنی حکم کے رو سے عورت اس سے طلاق لے سکتی ہے۔اور اگر پوری پوری تسلی کرنے پر قادر ہو تو عورت یہ عذر نہیں کر سکتی کہ دوسری بیوی کیوں کی ہے۔کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں کی عورت ذمہ دار اور کار برار نہیں ہو سکتی اور اس سے مرد کا استحقاق دوسری بیوی کرنے کیلئے قائم رہتا ہے۔جو لوگ قوی الطاقت اور متقی اور پار سا طبع ہیں ان کیلئے یہ طریق نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے بعض اسلام کے مخالف نفس امارہ کی پیروی سے سب کچھ کرتے ہیں مگر اس پاک طریق سے سخت نفرت رکھتے ہیں کیونکہ بوجہ اندرونی بے قیدی کے جو ان میں پھیل رہی ہے ان کو اس پاک طریق کی کچھ پر وا اور حاجت نہیں۔اس مقام میں عیسائیوں پر سب سے بڑھ کر افسوس ہے کیونکہ وہ اپنے مسلم النبوت انبیاء کے حالات سے آنکھ بند کر کے مسلمانوں پر ناحق دانت پیسے جاتے ہیں۔شرم کی بات ہے کہ جن لوگوں کا اقرار ہے کہ حضرت مسیح کے جسم اور وجود کا خمیر اور اصل جڑھ اپنی ماں کی جہت سے وہی کثرت ازدواج ہے جس کی حضرت داؤد ( مسیح کے باپ) نے نہ دونہ تین بلکہ سو بیوی تک نوبت پہنچائی تھی وہ بھی ایک سے زیادہ بیوی کرناز نا کرنے کی مانند سمجھتے ہیں اور اس پُر خبث کلمہ کا نتیجہ جو حضرت مریم صدیقہ کی طرف عائد ہوتا ہے اس سے ذرا پر ہیز نہیں کرتے اور باوجود اس تمام بے ادبی کے دعویٰ محبت مسیح رکھتے ہیں۔جانا چاہیئے کہ بیل کے رو سے تعدد نکاح نہ صرف قولاً ثابت ہے بلکہ بنی اسرائیل کے اکثر نبیوں نے جن میں حضرت مسیح کے دادا صاحب بھی شامل ہیں عملاً اس فعل کے جواز بلکہ استحباب پر مہر لگادی ہے۔اے ناخدا ترس عیسائیو ؟ اگر مہم کیلئے ایک ہی جور و ہو ناضروری ہے تو پھر کیا تم داؤد جیسے راست باز نبی کو نبی اللہ نہیں مانو گے یا سلیمان جیسے مقبول الٹی کو ملہم ہونے سے خارج کر دو گے۔کیا بقول تمہارے یہ دائمی فعل ان انبیاء کا جن کے دلوں پر گویا ہر دم الہام الہی کی تار لگی ہوئی تھی اور ہر آن خوشنودی یا ناخوشنودی کی تفصیل کے بارے میں احکام وارد ہو رہے تھے ایک دائمی گناہ نہیں ہے جس سے وہ اخیر عمر تک باز نہ آئے اور خدا اور اس کے حکموں کی کچھ پروانہ کی۔وہ غیرت مند اور نہایت درجہ کا غیور خدا جس نے نافرمانی کی وجہ سے شمود اور عاد کو