اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 7
ازواج النبی 7 تعددازدواج (girlfriend) اور بوائے فرینڈ (boyfriend) کے طور پر ناجائز تعلقات استوار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے جبکہ اسلام ایسی مخفی یا ظاہری دوستیوں سے روکتا ہے اور فطرت کے مطابق جائز طور پر جملہ حقوق کی ادائیگی اور عدل و انصاف کے ساتھ حسب ضرورت ایک سے زائد شادیوں کی اجازت دیتا ہے۔انیسویں صدی کے آخر میں حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اسلام کے دفاع اور احیاء کا بیڑا اٹھایا۔اس وقت ہندوستان پر خصوصا عیسائی مذہب کی حکومت تھی ان کی طرف سے اسلام اور بانی اسلام ہمارے نبی کریم پر ہونے والا ایک بڑا اعتراض تعدد ازدواج کا تھا۔اس زمانہ میں پادریوں اور ان کے ہمنواؤں کی طرف سے " امہات المؤمنین " جیسی قابل اعتراض اور بد نام زمانہ کتابیں شائع کر کے اسلام کو اس نقطہ نظر سے بھی ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اس محاذ پر بھی اسلام کا ز بر دست دفاع کیا اور اس مضمون کو اپنی کتابوں میں تفصیلاً بیان فرمایا۔تعدد ازدواج کی حکمت اور سابقہ مذاهب چنانچہ حضرت مسیح موعود تعدد ازدواج کی حکمتیں اور سابقہ مذاہب میں اس کے دستور کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔یہ کیسی بے انصافی ہے کہ جن لوگوں کے مقدس اور پاک نبیوں نے سینکڑوں بیویاں ایک ہی وقت میں رکھی ہیں وہ دو یا تین بیویاں کا جمع کرنا ایک کبیرہ گناہ سمجھتے ہیں بلکہ اس فعل کو زنا یا حرامکاری خیال کرتے ہیں۔کسی خاندان کا سلسلہ صرف ایک ایک بیوی سے ہمیشہ کیلئے جاری نہیں رہ سکتا بلکہ کسی نہ کسی فرد سلسلہ میں یہ وقت آپڑتی ہے کہ ایک جور و عقیمہ اور نا قابل اولاد نکلتی ہے۔اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ دراصل بنی آدم کی نسل ازدواج مکرر سے ہی قائم و دائم چلی آتی ہے۔اگر ایک سے زیادہ بیوی کرنا منع ہوتا تو اب تک نوع انسان قریب قریب خاتمہ کے پہنچ جاتی۔تحقیق سے ظاہر ہو گا کہ اس مبارک اور مفید طریق نے انسان کی کہاں تک حفاظت کی ہے اور کیسے اس نے اجڑے ہوئے گھروں کو بیک دفعہ آباد کر دیا ہے اور انسان کے تقویٰ کیلئے یہ فعل کیسا ز بر دست ممد و معین ہے۔خاوندوں کی حاجت براری کے بارے میں جو عورتوں کی فطرت میں ایک نقصان پایا جاتا ہے جیسے ایام حمل اور حیض، نفاس میں یہ طریق بابرکت اس نقصان کا تدارک تام کرتا ہے اور جس حق کا مطالبہ مرد اپنی فطرت کی رو سے کر سکتا ہے وہ اسے بخشتا ہے۔ایسا ہی مرد اور کئی وجوہات اور