اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 200 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 200

ازواج النبی 200 حضرت صفیہ تعبیر تھے۔یہ خواب جہاں حضرت صفیہ کی سچائی اور پاکیزگی نفس اور ان کے بارہ میں اللی منشاء کو ظاہر کرتا تھا وہاں اس کا اتنا جلدی پورا ہو جانار سول الله می کنیم کیلئے ان کے دل کو فتح کرنے کیلئے کافی تھا۔پھر سونے پر سہاگا یہ کہ رسول اللہ علیم کے حسن و احسان کے جلوے اور پاکیزہ اخلاق ایسے تھے جنہوں نے حضرت صفیہ کا دل موہ لیا۔مار گولیتھ کی اس معترضانہ سوچ کی تردید خود واقعات بھی کرتے ہیں۔اگر واقعی یہود کی خصلت یہی تھی کہ اپنی مقصد برآری کیلئے حالات سے صلح کر لی جائے تو خود مار گولیتھ اور سر ولیم میور کے بیان کے مطابق حضرت صفیہ (جن کا آبائی نام زینب تھا) کی ایک اور ہمنام زینب نامی یہود یہ بھی تو تھی جس نے اپنی آتش انتقام سرد کرنے کے لئے آنحضور طی تم کو کھانے میں زہر دینے سے بھی دریغ نہ کیا تھا۔اس کے مقابل پر حضرت صفیہ میں پیدا ہو نیوالی اس تبدیلی کی عظمت اور بڑھ جاتی ہے اور رسول اللہ سی ایم جیسے عظیم الشان معلم و مربی کی سچائی اور آپ کے اخلاق فاضلہ پر دلیل ہے۔رسول اللہ علیم کی اس پاکیزہ محبت کی تاثیر کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح الاوّل فرماتے ہیں :۔نبی کریم کی بی بی ماریہ پہلے عیسائی تھیں اور صفیہ یہودی۔اس قسم کے عقیدوں سے نبی کریم کی صحبت 4111 میں پاک ہوئیں' جہاں تک حضرت صفیہ کے ساتھ رسول اللہ علیم کی شادی پر اعتراض کا تعلق ہے اس میں کوئی وزن رض نہیں کیونکہ یہ شادی ایک قومی ضرورت تھی جیسا کہ سردار مکہ ابو سفیان کی بیٹی حضرت ام حبیبہ اور بنو مصطلق ย کے سردار حارث کی بیٹی حضرت جویریہ اور مصر کی شہزادی حضرت ماریہ قبطیہ کے ساتھ عقد ہوا تھا۔اسی دستور کے مطابق قدیم زمانے سے شادیوں کا رواج تھا۔بائبل کے مطابق حضرت سلیمان نے بھی اس مقصد کی خاطر فرعون مصر کی بیٹی سے شادی کی تھی جس کے باعث اسرائیل کو مصر سے حملہ کا خطرہ نہ رہا۔حضرت صفیہؓ کے ساتھ رسول اللہ علیہ و سلم کی شادی میں کوئی ایسی قابل اعتراض بات نہیں تھی جیسا کہ بعض مستشرقین نے لکھا ہے۔بلکہ یہ دشمن قوم پر ایک احسان تھا۔حضرت مولانا نور الدین صاحب خلیفہ المسیح الاول حضرت صفیہ کی شادی پر مشہور مستشرق ولیم میور کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔رض