اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 199 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 199

ازواج النبی 199 حضرت صفیہ رض اس جگہ مار گولیتھ یہودی تاریخ کی مشہور ہیروئن جوڈتھ (جس نے ایک فاتح اسیری بادشاہ سے شادی کے بعد اسے ہلاک کر کے یہودیوں کی شکست کو فتح میں بدل دیا تھا) کی مثال پیش کر کے کہتا ہے کہ فتح خیبر کے بعد رسول اللہ صلی تم کو زہر دے کر اپنے مقصد میں ناکام ہو نیوالی یہودی عورت زینب (زوجہ سلام بن مشکم) نے قومی غیرت میں جو کردار ادا کیا کیوں حضرت صفیہ نے (جس کے والد ، شوہر اور بھائی رسول اللہ علم کے ہاتھوں مارے گئے تھے) جوڑ تھ جیسا وہ کردار ادا نہ کیا۔پھر وہ اپنی حیرت و پریشانی اور اسلام دشمنی کا اظہار اس طنز یہ اعتراض کے ذریعہ کرتا ہے کہ بعض مسلمانوں نے حضرت صفیہ کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے کر ان سے حد سے زیادہ توقع رکھنی چاہی ہے ، جیسے حضرت ابو ایوب انصاری نے حضرت صفیہ سے رسول اللہ میم کی شادی کی پہلی شب ساری رات خیمہ کے باہر اپنے خدشات کی بناء پر آپ کی حفاظت کے لئے پہرہ دیا۔جبکہ مارگولیتھ کے مطابق حضرت صفیہ نے دیگر یہود کی طرح اپنے مفاد کی خاطر ایسا کیا اور بہت جلد اپنے پیاروں کے خون کو بھلادیا اور شادی کی رنگ رلیوں میں مصروف ہو کر بخوشی فاتح خیبر کے حرم میں شامل ہو گئیں۔کاش مارگولیتھ نے تعصب کی بجائے انصاف کی نظر سے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا اور حضرت صفیہ کے قبول اسلام کا پس منظر بچپن کے زمانہ سے پیش نظر رکھا ہوتا تو اسے یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہ رہتا کہ ان کے اندر یہ تبدیلی اچانک واقع نہیں ہوئی۔ہاں اگر حضرت صفیہ کے اندر یہ تبدیلی واقعی ایک رات میں ہوئی ہوتی تو پھر بھی یہ رسول اللہ علی می ریم کے اخلاق فاضلہ کا جادو تھا۔جن کے بارہ میں خود حضرت صفیہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی علی یا تم جو میرے لئے دنیا میں سب سے زیادہ قابل نفرین تھے سب سے بڑھ کر مجھے محبوب ہو گئے۔مگر فی الواقعہ یہ صرف ایک رات کا ہی انقلاب نہیں تھا بلکہ حضرت صفیہ کے دل میں تو دراصل بچپن کے اس روز سے ہی اسلام کی صداقت گھر کر چکی تھی جس روز انہوں نے اپنے والد اور چچا کی بانی اسلام کے سچا ہونے کے متعلق گفتگو سنی کہ آپ ہیں تو وہی موعود سچے نبی مگر بہر حال انکی مخالفت کرنی ہے۔اسلام کے حق میں حضرت صفیہ کی زندگی کا دوسرا تاریخی موڑ وہ ہے جب انہوں نے محاصرہ خیبر کے دوران اپنی خواب میں چاند کو اپنی گود میں گرتے دیکھا، جسے سن کر ان کے شوہر نے یہ کہتے ہوئے تھپڑ رسید کر دیا تھا کہ تم عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔رسول اللہ صلی علی یا تم ہی در اصل ان کے اس خواب کی