اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 5
ازواج النبی 5 تعددازدواج تعدد ازدواج قانون فطرت اور انسان کے معاشرتی حالات کے پیش نظر تعدد ازدواج ایک اہم ضرورت ہے۔اسلام جو دین فطرت ہے اس نے اس انسانی ضرورت کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔اور حسب حالات و ضرورت ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار بیویوں کی اجازت دی ہے۔چنانچہ اگر اسلام سے قبل کسی کی چار سے زائد بیویاں تھیں بھی تو قبول اسلام کے بعد اسے صرف چار بیویاں رکھنے کی اجازت دی گئی۔اس طرح سے پہلے کثرت ازواج کی جو بے اعتدالی تھی اسلام نے اسے چار تک محدود کیا اور ان میں برابری اور انصاف کی شرط کا حکم دیگر اعتدال قائم کیا۔تاہم اگر کوئی شخص ایک سے زائد بیویوں میں عدل و مساوات قائم نہ رکھ سکتا ہو تو اسے ایک بیوی پر ہی اکتفا کرنے کی ہدایت ہے۔جیسا کہ فرمایا:۔فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاء مَثْنى وَثُلثَ وَرُبعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا (النساء:4) یعنی عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو۔دو دو اور تین تین اور چار چار۔لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر صرف ایک (کافی ہے) یاوہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یہ (طریق ) قریب تر ہے کہ تم نا انصافی سے بچو۔پس اسلام میں تعدد ازدواج کا انتظام یا سہولت کسی حکم یا قاعدہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک استثناء ہے۔جس کی اجازت نکاح کے اغراض کے حصول اور نسل انسانی کی جائز ضروریات پورا کرنے کیلئے ان حالات میں دی گئی جب عربوں میں تعدد ازدواج کی کوئی حد بندی نہیں تھی۔ہر شخص جتنی مرضی بیویاں رکھ سکتا تھا۔اسلام نے اس کو ضرورت کی بنیاد پر اور عدل کی شرط کے ساتھ صرف چار تک محدود کر دیا۔