اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 162
ازواج النبی 162 حضرت جویریہ رض آنحضرت علیم نے مجھے اسی حال میں بیٹھے دیکھ کر پوچھا کہ تم صبح سے یہیں بیٹھی ذکر الٹی اور تسبیح میں مصروف ہو، میں نے عرض کیا جی ہاں یار سول اللہ لی تم ! آپ نے فرمایا کیا میں تمہیں کچھ ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو تم تسبیحات اور ذکر الہی کے وقت پڑھ لیا کرو۔میں نے تو وہی تین چار کلمے تین دفعہ پڑھے ہیں۔مگر تم نے نماز فجر سے لے کر دن چڑھنے تک جتنا ذ کر الٹی اور تسبیحات کی ہیں۔وہ چار کلمے اپنے اجر و ثواب ہیں ان سے زیادہ بھاری اور وزنی ہیں۔اور وہ یہ کلمات ہیں :۔سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضًا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ - 20 اللہ تعالی اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے۔اتنا قابل تعریف اور پاک جتنی اس کی مخلوق کی تعداد ہے۔اور اتنا پاک ہے جتنا وہ چاہے۔اور اتنا پاک ہے جتنا اس کے عرش کا وزن ہے۔اور اتنا پاک جتنا اس کے کلمات کے لکھنے کے لئے سیاہی ہو (اور اس کے کلمات کو احاطہ تحریر میں لانے کے لئے دنیا کے تمام سمندروں کی سیاہی بھی ناکافی ہے)۔ایک دوسری روایت میں اس دعا کے ہر کلمہ کو تین مرتبہ پڑھنے کا ذکر ہے۔اس سے آنحضور طی یا یتیم کا مقصود صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالی کی جو تسبیح اور حمد دل کی گہرائی، سچی محبت اور شعور ووجد ان سے اپنی تمام تر لفظی و معنوی وسعتوں کے ساتھ کی جائے وہ زیادہ لائق قبول ہے۔عشق رسول علیه السلام حضرت جویریہ جو ایک مشرک اور دشمن قبیلہ سے تھیں۔رسول اللہ ٹیم کے عقد میں آئیں اور آپ کے اخلاق فاضلہ اور حسن سلوک سے متاثر ہو کر آغاز میں ہی ایسی گرویدہ ہو ئیں اور وہ سچی محبت ان کے دل میں پیدا ہوگئی جو ایک مومن کی حقیقی شان ہے۔چنانچہ جب آپ کے والد نے اپنی بیٹی کی اسیری کا سنا اور ان کو آزاد کروانے کیلئے فدیہ لیکر آیا اور درخواست کی کہ اسے آزاد کر دیا جائے۔رسول اللہ العلیم نے حضرت جویریہ کو اختیار دیا کہ وہ والدین کے ساتھ جانا چاہیں تو جاسکتی ہیں۔والد نے خوشی خوشی جا کر اپنی بیٹی کو یہ بات بتائی اور کہا کہ خدا کیلئے مجھے رسوا نہ کرنا۔مگر قربان جائیں حضرت جویریہ پر انہوں نے کیا خوب جواب دیا که قَدْ اخْتَرْتُ رَسُولَ اللہ کہ اب تو میں خدا کے رسول کو اختیار کر چکی ہوں۔اپنے ماں باپ کو تو چھوڑ سکتی ہوں مگر ان سے جدا نہیں ہو سکتی۔یہ وہ سچا عشق رسول تھا جو حضرت جویریہ کو ایمان کے بعد نصیب ہوا۔اور رض